حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 7 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 7

حیات احمد جلد پنجم حصہ اوّل کے انقلاب میں وہ میرے پاس نہ تھا۔اس لئے تکمیل کے طور پر میں نے اسے بطور تتمہ واقعات ۱۸۹۷ء درج کر دیا ہے۔(4) اس جلد کا آغاز بھی میری زندگی کے ایک اور انقلابی دور سے ہورہا ہے اور وہ یہ کہ ۱۸۹۸ء میں میں غیر ارادی طور پر ہجرت کر کے قادیان آ گیا۔غیر ارادی میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ ۱۸۹۷ء کے جلسہ پر آنے سے پیشتر میں الحکم کا دفتر لاہور منتقل کرنے کا عزم کر چکا تھا اس لئے کہ لاہور مرکزی مقام تھا۔مکرم منشی محبوب عالم صاحب ایڈیٹر و مالک پیسہ اخبار نے مجھے روزانہ پیسہ اخبار کے ایڈیٹوریل اسٹاف میں کام کرنے کے لئے منتخب کیا اور اس کے متعلق ضروری شرائط طے ہو چکے تھے میں نے اسے اس لئے قبول کر لیا تھا کہ الحکم کا مستقبل ترقی کر سکے لیکن جب ۱۸۹۷ء کے جلسہ پر میں آیا تو مدرسہ تعلیم الاسلام کے لئے (جو اس وقت پرائمری اسکول کھولا گیا تھا مکرم خواجہ کمال الدین صاحب مغفور نے ایک ایسے شخص کے لئے اپیل کی جو انگریزی بھی بقدر ضرورت جانتا ہو۔اور انتظامی حیثیت سے مدرسہ کا ہیڈ ماسٹر ہو سکے۔ان کی تقریر پر میں نے بے خود ہو کر اپنے آپ کو پیش کر دیا۔اور میں یقین کرتا ہوں کہ یہ خدائی مشقیت تھی۔اور میرے لئے سبق تھا تیرے لئے قادیان ہی کی سرزمین بابرکت ہے لا ہور نہیں۔میں لا ہور نوے روپیہ ماہوار پر جارہا تھا اور یہاں کچھ فیصلہ ہوا نہ میں نے پوچھا بلکہ سلسلہ کی ایک ضرورت نے مجھے آگے آنے پر آمادہ کر دیا یہ حقیقت ہے کہ اس حقیقت کے لئے اپنے آپ پیش کرتے وقت میرے حافظہ سے وہ پہلا پروگرام نَسُيًا مَنسِيًّا ہو چکا تھا۔میرے لبیک کہنے کو سب نے نہ صرف پسند فرمایا بلکہ امتنانی رنگ سے سراہا ( اللہ تعالیٰ اسے قبول کرے)