حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 211 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 211

حیات احمد ۲۱۱ جلد پنجم حصہ اول ہوا ہے اس لئے طبیعت نے یہی چاہا کہ کسی وقت اس کے مصداق آپ ہی ہوں۔“ مکتوب بنام سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراسی مورخه ۳ /اکتوبر ۱۸۹۸ء مکتوبات احمد جلد ۲ صفحه ۳۸۳ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) (11)’رات میں نے دیکھا کہ ایک بڑا پیالہ شربت کا پیا۔اس کی حلاوت اس قدر ہے کہ میری طبیعت برداشت نہیں کرتی بایں ہمہ میں اس کو پیئے جاتا ہوں اور میرے دل میں یہ خیال بھی گزرتا ہے کہ مجھے پیشاب کثرت سے آتا ہے۔اتنا میٹھا اور کثیر شربت میں کیوں پی رہا ہوں۔مگر اس پر بھی میں اُس پیالے کو پی گیا۔شربت سے مراد کامیابی ہوتی ہے اور یہ اسلام اور ہماری جماعت کی کامیابی کی بات ہے۔“ الحکم جلد۲، نمبر ۲۹،۲۸، پرچه ۲۰-۲۷ ستمبر ۱۸۹۸ء صفحہ۳۔تذکره صفحه ۲۶۷ مطبوعہ ۲۰۰۴ء) ( میں اِمَامُ الزمان ہوں اور خدا میری تائید میں ہے اور وہ میرے لئے ایک تیز تلوار کی طرح کھڑا ہے اور مجھے خبر دی گئی ہے کہ ”جو شرارت سے میرے مقابل پر کھڑا ہوگا وہ ذلیل اور شرمندہ کیا جائے گا۔دیکھو میں نے وہ حکم پہنچا دیا جو میرے ذمہ تھا۔“ ( ضرورة الامام صفحه ۲۶۔روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۴۹۷۔تذکره صفحه ۲۶۷ مطبوعہ ۲۰۰۴ء) ”خدا نے مجھے بار بار الہام دیا ہے کہ اس زمانہ میں کوئی معرفتِ الہی اور کوئی محبت الہی تیری معرفت اور محبت کے برابر نہیں۔" ضرورۃ الامام ،صفحہ ۳۱۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۰۲۔تذکره صفحه ۲۶۷ مطبوعه ۲۰۰۴ء) (۱۲) صبح کو بعد نماز فجر فرمایا کہ رات کو بعد تہجد لیٹ گیا۔تھوڑی سی غنودگی کے بعد دیکھا کہ میرے ہاتھ میں سرمہ چشم آریہ کے چار ورق ہیں اور کوئی کہتا ہے کہ آریہ لوگ اب خود اس کتاب کو چھپوا رہے ہیں۔(احکم جلد ۲ نمبر ۳۰۔پر چه ۸ اکتوبر ۱۸۹۸ء صفحه ۶۔تذکرہ صفحہ ۲۶۷ مطبوعہ ۲۰۰۴ء) (۱۳) '' آج ۴ رنومبر ۱۸۹۸ء میں خواب میں مجھ کو دکھلایا گیا کہ ایک شخص روپیہ بھیجتا ہے۔میں بہت خوش ہوا اور یقین رکھتا تھا کہ آج پچاس روپیہ آئے گا چنانچہ آج ہی ۴ رنومبر ۱۸۹۸ء کو آپ کا پچاس رو پیدا گیا فَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَجَزَاكُمُ الله معلوم ہوتا ہے کہ یہ روپیہ بھیجنادرگاہ الہی میں قبول ہے“۔از مکتوبات بنام ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب، مورخه ۴ / نومبر ۱۸۹۸ء بروز جمعہ تذکره صفحه ۲۶۸ مطبوعه ۲۰۰۴ء)