حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 212 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 212

حیات احمد ۲۱۲ جلد پنجم حصہ اوّل میں نے کچھ دن ہوئے خواب میں آپ کی نسبت کچھ بلا اور غم کو دیکھا تھا۔ایسے خوابوں اور الہاموں کو کوئی ظاہر نہیں کر سکتا۔مجھے اندیشہ تھا، آخر اس کا یہ پہلو ظاہر ہوا۔یہ تقدیر مبرم تھی جو ظہور میں آئی۔“ ( مکتوب بنام نواب محمد علی خاں صاحب، مکتوبات احمد جلد ۲ صفر ۲۳۳ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) قادر ہے وہ بارگاہ ٹوٹا کام بناوے بنا بنایا توڑ دے کوئی اس کا بھید نہ پاوے مکتوب بنام سیٹھ عبدالرحمن صاحب۔مورخہ ۲۱ / دسمبر ۱۸۹۸ء۔مکتوبات احمد جلد ۲ صفحه ۳۹۱ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) فرمایا۔رات یعنی ۳۱ دسمبر ۱۸۹۸ ء شب کو الہام ہوا۔السُّهَيْلُ الْبَدْرِی۔پھر فرمایا کہ سہیل وہ ستارہ ہے جس کو وَلَدُ الزِّنَا كُش بھی کہتے ہیں کیونکہ جب وہ طلوع ہوتا ہے تو تکونی کیڑے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ابوالفضل نے اسی ستارے کی نسبت لکھا ہے۔ہے وَلَدُ الزِّنَاكُش آمد چو ستاره یمانی الحکم جلد نمبر۔پر چهار جنوری ۱۸۹۹ء صفحہ ۶) (۱۴) خواجہ جمال الدین صاحب بی۔اے جو ہماری جماعت میں داخل ہیں جب امتحانِ منصفی میں فیل ہوئے اور ان کو بہت ناکامی اور نا امیدی لاحق ہوئی اور سخت غم ہوا تو ان کی نسبت مجھے الہام ہوا کہ سَيُغْفَرُ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے اس غم کا تدارک کرے گا۔چنانچہ اس کے مطابق وہ جلد ریاست کشمیر میں ایک ایسے عہدے پر ترقی یاب ہوئے جو عہدہ منصفی سے ان کے لئے بہتر ہوا۔یعنی وہ تمام ریاست جموں وکشمیر کے انسپکٹر مدارس ہوگئے۔نزول المسیح صفحه ۲۱۳- روحانی خزائن جلد ۸ صفحه۵۹۱) (۱۵) ایک دفعہ ہمارے لڑکے بشیر احمد کی آنکھیں بہت خراب ہو گئی تھیں پلکیں گرگئی تھیں اور پانی بہتا رہتا تھا۔آخر ہم نے دعا کی تو الہام ہوا۔برق طفلِی بَشِيرٌ یعنی میرے لڑکے بشیر احمد کی آنکھیں اچھی ہو گئیں۔اس الہام کے ایک ہفتہ بعد اللہ تعالیٰ نے اس کو شفا دے دی اور آنکھیں بالکل تندرست