حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 176 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 176

حیات احمد 127 جلد پنجم حصہ اول میرا اپنا ایک واقعہ اس موقعہ پر خاکسار عرفانی یکا یک بیمار ہو گیا حضرت اقدس نے جو شفقت اور توجہ فرمائی اس کا ذکر کئے بغیر آگے نہیں جاتا۔ذیل کے اقتباس سے یہ واضح ہوگا۔ان حالات میں زیر دفعہ ۷ احفظ امن کی ضمانت کے لئے رپورٹ کی تھی اور اس طرح پر مولوی محمد حسین والا مقدمہ شروع ہو گیا۔اس کی ایک تاریخ پیشی پر حضرت اقدس کو پٹھان کوٹ جانا پڑا مجھے ہمرکابی کا شرف حاصل تھا۔رات کو میں یکا یک سخت بیمار ہو گیا۔در دمعدہ کا حملہ ہوا اور اس کے ساتھ ہی پیشاب پاخانہ بھی بند ہو گیا۔میں جس کمرہ میں سویا ہوا تھا اس میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم تھے میں ان کی نزاکت طبع سے واقف تھا ان کے آرام کا خیال کر کے میں ہائے تک منہ سے نہ نکال سکتا تھا اور درد ہر آن بڑھتا جاتا تھا آخر میں نہایت تنگ ہو کر دوسرے کمرے میں جو اس کے ساتھ ہی تھا جہاں حضرت حکیم الامت سوئے پڑے تھے آیا اور ان کے پہلو میں اس امید سے لیٹ گیا کہ وہ کروٹ بدلیں تو عرض کروں چنانچہ انہوں نے کروٹ بدلا تو میں نے کہا ہائے ہائے میری یہ آواز حضرت کے کان میں بھی پہنچی جو اس کے ساتھ ہی کمرے میں استراحت فرما تھے قبل اس کے کہ مولوی صاحب اٹھتے حضرت اقدس فوراً اٹھ کر تشریف لائے اور پوچھا میاں یعقوب علی کیا ہوا ؟ ان الفاظ میں محبت اور ہمدردی کا ایسا نشہ تھا کہ میں کبھی نہیں بھول سکتا۔حضرت کی آواز کے ساتھ ہی حضرت حکیم الامت اور دوسرے احباب اٹھ بیٹھے۔میں نے اپنی حالت کا اظہار کیا۔آ۔نے مولوی صاحب کو فر مایا کہ میں دوائی دیتا ہوں۔چنانچہ آپ چند گولیاں لائے جو صبر کی گولیاں تھیں اور مجھ کو کھلا دی گئیں اور اس کے ساتھ ہی نہایت تسلی اور اطمینان دلایا کہ گھبراؤ نہیں ابھی آرام آجائے گا، میں دعا بھی کرتا ہوں حضرت کی اس توجہ کو دیکھ کر تمام احباب کو میرے ساتھ کمال ہمدردی پیدا ہوگئی یہاں تک کہ حضرت مولوی عبدالکریم رضی اللہ عنہ جیسا نازک طبیعت اور معذور بزرگ مجھ کو دبانے کے لئے بیٹھ گیا۔اب صبح ہو رہی تھی اور تمام قافلہ قادیان کو روانہ ہونے والا تھا جوں جوں وقت