حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 175
حیات احمد ۱۷۵ جلد پنجم حصہ اول جمع ہو گئے تھے اتفاق ایسا ہوا کہ جس مقام پر مسٹر ڈوئی ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور کا خیمہ لگا ہوا تھا اس کے نزدیک ہی ایک مکان میں حضرت مرزا صاحب جا کر قیام پذیر ہوئے راجہ غلام حیدر خاں صاحب جو ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کے مقدمہ کے دوران میں مسٹر ڈگلس کے مسلخواں تھے ان دنوں وہ پٹھان کوٹ میں تحصیلدار تھے انہوں نے حضرت مرزا صاحب کے قیام کے اہتمام میں خاص حصہ لیا حضرت مرزا صاحب کی جائے سکونت اور ڈپٹی کمشنر کے خیمہ کے درمیان میں ایک میدان تھا جہاں حضرت مرزا صاحب اور آپ کے احباب نماز باجماعت پڑھنا کرتے تھے۔مغرب کا وقت تھا مغرب کی نماز کے لئے حضرت اقدس میدان میں تشریف لائے اور مولا نا عبدالکریم صاحب سیالکوٹی حسب معمول امام بنے انہوں نے نماز میں جو قرآن پڑھنا شروع کیا تو ان کی بلند مگر خوش الحان اور اثر سے ڈوبی ہوئی آواز مسٹر ڈوئی کے کان پر پڑی وہ اپنے خیمہ میں آگے آ کھڑے ہوئے اور ایک انہماک کے عالم میں کھڑے قرآن سنتے رہے۔جب نماز ختم ہوئی تو راجہ غلام حیدر خاں صاحب تحصیلدار پٹھان کوٹ کو بلا کر پوچھا کہ آپ کی ان لوگوں سے واقفیت ہے انہوں نے عرض کیا کہ ہاں۔کہا کہ میں نے ان لوگوں کو نماز میں قرآن پڑھتے سنا ہے میں اس قدر متاثر ہوا ہوں کہ حد سے باہر ہے اس قسم کا ترنم اور اثر میں نے کسی کلام میں نہیں سنا اور نہ کبھی محسوس کیا۔کیا پھر بھی یہ نماز پڑھیں گے اور مجھے نزدیک سے سنے کا موقعہ دیں گے۔راجہ غلام حیدرخاں صاحب حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کل ماجرا عرض کیا۔آپ نے فرمایا کہ دوسرے وقت جب ہم نماز پڑھیں گے تو صاحب بہادر بے شک ہمارے پاس بیٹھ کر قرآن سنیں۔چنانچہ اب کی دفعہ ایک کرسی نماز کے وقت بچھا دی گئی اور صاحب بہادر آکر اس پر بیٹھ گئے۔نماز شروع ہوئی اور مولوی عبدالکریم صاحب نے قرآن پڑھنا شروع کیا۔اور صاحب بہادر مسحور ہو کر جھومتے رہے۔راجہ غلام حیدرخاں سے اس قرآن خوانی کی بڑی تعریف کی۔بظاہر یہ ایک معمولی واقعہ سمجھا جاسکتا ہے لیکن یہ سب سامان اللہ تعالیٰ کی تائید کارنگ رکھتا ہے۔