حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 174 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 174

حیات احمد ۱۷۴ جلد پنجم حصہ اول پر کیا الزام ہے۔نہ میں نے خود بخود پیشگوئی کی اور نہ میں نے اس کو مشتہر کیا اور اگر صرف شک پر لحاظ کیا جائے تو ہندوؤں نے سرسید احمد خان کے سی ایس آئی پر بھی قتل لیکھرام کا شبہ کیا تھا۔فقط راق خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ۲۰ / جنوری ۱۸۹۹ء تبلیغ رسالت جلد ۸ صفحه ۲۴ تا ۳۶- مجموعه اشتہارات جلد ۲ صفحه ۲۸۵ تا ۲۹۲ طبع بار دوم ) ایک عجیب واقعہ پٹھان کوٹ کی پیشی پر ایک عجیب واقعہ پیش آیا جو تائید ربانی کی ایک تجلی کا رنگ رکھتا ہے اور حضرت اقدس کے خلاف ہر مقدمہ میں اس کا ظہور ہوتا رہا ہے مثلاً کلارک کے مقدمہ میں پوری مثل مکمل ہو جانے کے باوجود اصلی واقعہ سے مطمئن نہ ہونا اور پولیس کو از سر نو تحقیقات کرنے کا حکم دینا۔بلکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس نے کہا تھا کہ میں دیکھتا ہوں کہ حضرت مرزا صاحب ہر وقت میرے سامنے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں بے گناہ ہوں یہ کشفی نظارہ تھا۔جس نے ڈگلس کو غیر مطمئن کر کے دوبارہ تحقیقات کا حکم دینے پر مجبور کیا۔امیر کابل سے خفیہ مراسلات کی مخبری پر جب پولیس کپتان اور رانا جلال الدین آئے اور انہوں نے نماز کا منظر دیکھا تو انہوں نے اُس مخبری کو جھوٹی قرار دیا اور بغیر تلاشی کے حضرت کے بیان پر مطمئن ہو کر چلے گئے اس موقعہ پر مسٹرڈوئی ڈپٹی کمشنر گورداسپور حضرت اقدس کی محویت نماز اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی قراءت سے بے حد متاثر ہوا۔اسے میں ڈاکٹر بشارت احمد صاحب مرحوم کے الفاظ میں درج کرتا ہوں۔پٹھان کوٹ کے سفر کا ایک ایمان افروز واقعہ یہ ہے کہ اس سفر میں مولانا نورالدین صاحب اور مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی وغیرہ بھی آپ کے ساتھ تھے اور باہر سے بھی بہت سے احباب