حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 3
حیات احمد جلد پنجم حصہ اوّل عرض حال اللہ تعالیٰ ہی سزاوار حمد ہے اور اسی کا شکر مقصد حیات ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذکر کو میں عبادت سمجھتا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو مخاطب کر کے فرمایا تھا يَرْفَعُ اللَّهُ ذِكْرَكَ یعنی اللہ تعالیٰ تیرے ذکر کو بلند کرے گا۔میں آپ کے حالات کا تذکرہ اس منشاء الہی کے پورا کرنے کے ثواب کا مستحق بنا دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آغا ز شباب سے مجھے اس نعمت سے نوازا کہ میں آپ کے ذکر کو بلند کر سکوں اس وقت تک کہ میں اپنی عمر کے شمسی ۸۳ اور قمری ۸۶ سال پورے کر چکا ہوں مجھے اس نعمت سے محروم نہیں فرمایا۔گزشتہ سال جب عہد جدید کی دوسری جلد شائع ہوئی تو میں توقع کرتا تھا که دسمبر ۱۹۵۳ء تک ایک اور جلد شائع کر سکوں مگر حالات نے مساعدت نہ کی اور کچھ میری علالت نے موقع نہ دیا اور پورے سال میں یہ جلد شائع کرنے کے قابل ہوسکا۔عہد جدید کے اس تالیف کے سلسلہ کی اشاعت میں حضرت سیٹھ حسن احمدی اور حضرت سیٹھ حد حسین صاحب رضی اللہ عنہما نے اس کارخیر میں اعانت کی اور معین الدین صاحب ساتھ دے رہے ہیں اور حضرت سیٹھ عبد اللہ بھائی سلمہ اللہ تعالیٰ تو ابتدا ہی سے خاص معاون ہیں اور عزیز مکرم یدحسین صاحب بھی ابتدا سے شریک اعانت ہیں عزیز مکرم مولوی محمد اسماعیل فاضل وکیل ہائی کورٹ اور مولوی محمد عبد اللہ بی۔ایس سی ایل ایل بی کی مادی اور اخلاقی امداد کے لئے میں دائماً شکر گزار سید ہوں اللہ تعالیٰ ان تمام بزرگوں پر بیش از بیش اپنے دریائے رحمت کو کشادہ کر دے۔اب تک میں نے اس تالیف میں اس امر کو مد نظر رکھا تھا کہ آنے والے مورخ کے لئے میں اسے بطور ریفرنس بک کے بنا دوں لیکن اب بہ تقاضائے عمر میں چاہتا ہوں کہ اسے پورا کرنے کی توفیق پاسکوں میں تفصیلات میں نہیں جاؤں گا۔واقعات کو مختصر کرنے کی کوشش کروں گا تا کہ اول تو ایک ہی جلد میں غایت کار دو جلدوں میں ختم کر سکوں وَ بِاللهِ التَّوْفِيقِ۔آخر میں میں احمدی جماعتوں کو وہ ہندوستان میں ہیں یا پاکستان میں توجہ دلاتا ہوں کہ