حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 173 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 173

حیات احمد ۱۷۳ جلد پنجم حصہ اول کہ یہ سارا پر دہ کھل جائے گا۔غرض محمد حسین کی ایسی گندی کارروائیوں کے پہلے میں نے مجازی حکام کی طرف رجوع کیا۔یعنی میموریل بھیجے اور پھر اُس حقیقی حاکم کی طرف توجہ کی جو دلوں کے خیالات کو جانتا اور مفسد اور نیک خیال آدمی میں فرق کرتا ہے یعنی مباہلہ کو جو اسلام میں قدیم سنت اور نماز روزہ کی طرح فرائض مذہب میں بوقت ضرورت داخل ہے۔تجویز کر کے اشتہار ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء لکھا اور خدائے علیم جانتا ہے جس پر افترا کرنا بد ذاتی ہے کہ بعد دعا یہی الہام ہوا کہ میں ظالم کو ذلیل کروں گا۔مگر اسی قسم کی ذلت ہوگی جو فریق مظلوم کو پہنچائی گئی ہو۔میرے حالات میری انیس برس کی تعلیم سے ظاہر ہو سکتے ہیں کہ میں اپنی جماعت کو کیا تعلیم دے رہا ہوں۔ایسا ہی میرے حالات میری جماعت کی چال چلن سے معلوم ہو سکتے ہیں اور بہتیرے ان میں سے ایسے ہیں جو گورنمنٹ کی نظر میں نہایت نیک نام اور معزز عہدوں پر سرفراز ہیں۔ایسا ہی میرے حالات قصبہ قادیان کے عام لوگوں سے دریافت کرنے کے وقت معلوم ہو سکتے ہیں کہ میں نے ان میں کس طرز کی زندگی بسر کی ہے۔ایسا ہی میرے حالات میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضی کی طرز زندگی سے معلوم ہو سکتے ہیں کہ گورنمنٹ انگلشیہ کی نظر میں کیسے تھے اور عجیب تر یہ کہ محمد حسین جو ہر وقت میری ذلت کے درپے ہے وہ اپنی اشاعۃ السنہ نمبر ۹ جلد نمبرے میں میری نسبت اقرار کرتا ہے کہ یہ شخص اعلیٰ درجہ کا پاک باطن اور نیک خیال اور سچائی کا حامی اور گورنمنٹ انگریزی کا نہایت درجہ کا خیر خواہ ہے“۔یہ بھی گزارش کرنا ضروری ہے کہ اگر لیکھر ام کے مارے جانے کے وقت میں میری نسبت آریوں کو شکوک پیدا ہوئے تھے تو ان شکوک کی بناء بجز اس پیشگوئی کے اور کچھ نہ تھا جس کو لیکھرام نے آپ مانگا تھا اور مجھ سے پہلے آپ مشتہر کیا تھا۔پھر اس میں میرے