حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 172 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 172

حیات احمد ۱۷۲ جلد پنجم حصہ اول محمد حسین نے نہایت بے باکی سے قدم آگے رکھا۔چنانچہ ان گالیوں کا نمونہ محمد بخش جعفر زٹلی کے اُس اشتہار سے ظاہر ہوتا ہے جو اس نے اارجون ۱۸۹۷ء میں شائع کیا ہے۔اس اشتہار میں اُس کی عبارت جو دراصل محمد حسین کی عبارت ہے۔یہ ہے ”مرزا عیسائیوں کا کوڑا اور گندگی اٹھانے کے لئے تیار اور راضی ہے اور اپنا منہ ان کی جوتیوں پر ملنے کے لئے اس نے برٹش گورنمنٹ کو خدا کا درجہ دے دیا ہے۔اس خرد قال نے حضرت سلطان المعظم یعنی سلطان روم کی نسبت بیہودگی کی ہے۔جی چاہتا ہے کہ یہ خبیث باطنی شیطان سامنے بٹھایا جائے اور دوسو جوتے مارے جائیں اور جب شمار کرتے وقت عدد بھول جائے تو پھر از سرنو گننا شروع کیا جائے۔اس کتے کے بچے پر لعنت۔سلطان کی نسبت حقارت امیز لفظ استعمال کرنے سے تو یہی اچھا ہوتا کہ وہ کھلا کھلا عیسائی ہو جاتا۔میں نے مرزا کے متعلق پانچ پیشگوئیاں کی ہیں اور وہ یہ ہے۔(۱) قادیانی ایک سخت مقدمہ میں پھنس جائے گا۔اور جلاوطن کیا جائے گا یا بیٹریاں پڑیں گی اور قید خانہ میں ڈالا جائے گا۔(۲) قید میں وہ دیوانہ ہو جائے گا۔(۳) ایک ناسور نکلے گا۔(۴) وہ جذامی ہو جائے گا اور خود کشی کر کے دوزخ میں ڈالا جائے گا“۔ایسا ہی اس اشتہار کے ساتھ ایک تصویر لکھی ہے جس میں مجھے شیطان بنایا ہے محمد حسین کا یہی طریق ہے کہ یہ گندے اشتہار پہلے اس کے نام پر شائع کرتا ہے اور پھر نقل کے طور پر اپنی اشاعۃ السنہ میں شائع کرتا ہے تا اگر کوئی اعتراض کرے کہ تو نے مولوی کہلا کر ایسی گندی اور قابل شرم کا رروائی کر رکھی ہے تو فی الفور اس کا جواب دیتا ہے کہ میں تو صرف اشاعۃ السنہ میں دوسرے کے کلام کو نقل کرتا ہوں۔اس میں کیا حرج ہے لیکن اگر محمد بخش زٹلی وغیرہ کو عدالت خود بلا کر دریافت کرے۔تو میں یقین رکھتا ہوں