حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 167
حیات احمد 172 جلد پنجم حصہ اول اپنی تحریروں کے ذریعہ سے یہ ارادہ بار بارظاہر کیا تھا کہ اس وجہ سے میں نے یہ پیشگوئی اصرار سے طلب کی ہے کہ تا جھوٹا ہونے کی حالت میں ان کو ذلیل کروں۔میں نے اس کو اور عبداللہ آتھم کو یہ بھی کہا تھا کہ پیشگوئیاں طلب کرنا عبث ہے کیوں کہ اس سے پہلے تین ہزار کے قریب مجھ سے آسمانی نشان ظاہر ہو چکے ہیں جن کے گواہ بعض قادیان کے آریہ بھی ہیں۔ان سے حلفاً دریافت کرو اور اپنی تسلی کر لومگر مجھے اب تک ان دونوں کی نسبت یہ ہمدردی جوش مارتی ہے کہ کیوں انہوں نے ایسا نہ کیا اور کیوں مجھے اس بات پر سخت مجبور کر دیا کہ میں ان کے بارے میں کوئی پیشگوئی کروں۔یہ کہنا انصاف اور دیانت کے برخلاف ہے کہ ڈپٹی عبد اللہ آتھم کی نسبت پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔بلکہ نہایت صفائی سے الفاظ کے منشاء اور شرط مندرجہ پیشگوئی کے مفہوم کے مطابق پوری ہو گئی۔ڈپٹی عبداللہ آتھم سے بہت مدت سے میری ملاقات تھی اور میرے حالات سے وہ بہت واقف تھا۔مجھ کو اس کی نسبت زیادہ افسوس اور درد ہے کہ کیوں اس نے ایسی پیشگوئی کو جس میں اس کی موت کی خبر تھی طلب کیا جس کے آخری اشتہار سے چھ مہینے بعد عین منشاء کے مطابق وہ فوت ہو گیا۔صرف یہی نہیں کہ یہ دو پیشگوئیاں پوری ہوئیں بلکہ انیس برس کے عرصہ میں تین ہزار کے قریب ایسے نشان ظاہر ہوئے اور ایسی غیبت کی باتیں قبل از وقت بتلائی گئیں اور نہایت صفائی سے پوری ہوئیں جن پر غور کر کے گویا انسان خدا کو دیکھ لیتا ہے۔اگر یہ انسان کا منصوبہ ہوتا تو اس قدرنشان کیوں کر ظاہر ہو سکتے جن کی وجہ سے میری جماعت کے دل پاک اور خدا کے نزدیک ہو گئے۔میری جماعت ان تمام باتوں پر گواہ ہے کہ کیونکر خدا تعالیٰ نے عجیب در عجیب نشان دکھلا کر اس طرح پر ان کو اپنی طرف کھینچا جس طرح پہلے اس سے خدا تعالیٰ کے پاک نبیوں پر ایمان لانے والے پاک دل اور صاف باطنی اور خدا تعالیٰ کی محبت کی طرف کھینچے گئے تھے۔میں دیکھتا ہوں کہ وہ جھوٹ سے پر ہیز کرتے اور خدا تعالیٰ سے ڈرتے اور اس گورنمنٹ