حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 132 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 132

حیات احمد ۱۳۲ جلد پنجم حصہ اول حلیم اور حتی المقدور چشم پوشی کرنے والی ہے اگر میں بقول محمد حسین باغی ہوں یا جیسا کہ میں نے معلوم کیا ہے کہ خود محمد حسین کے ہی باغیانہ خیالات ہیں تو گورنمنٹ کا فرض ہے کہ کامل تحقیقات کر کے جو شخص ہم دونوں میں سے در حقیقت مجرم ہے اس کو قرار واقعی سزا دے تا ملک میں ایسی بدی نہ پھیلنے پاوے۔حفظ امن کے لئے نہایت سہل طریق یہی ہے کہ پنجاب اور ہندوستان کے نامی مولویوں سے دریافت کیا جائے کہ یہ شخص جو ان کا سرگروہ اور ایڈوکیٹ کہلاتا ہے اس کے کیا اعتقاد ہیں؟ اور کیا جو کچھ یہ گورنمنٹ کو اپنے اعتقاد بتلاتا ہے اپنے گروہ کے مولویوں پر بھی ظاہر کرتا ہے؟ کیوں کہ ضرور ہے کہ جن مولویوں کا یہ سرگروہ اور ایڈووکیٹ ہے ان کے اعتقاد بھی یہی ہوں ، جو سرگروہ کے ہیں۔بالآخر ایک اور ضروری امر گورنمنٹ کی توجہ کے لئے یہ ہے کہ محمد حسین نے اپنی اشاعۃ السنہ جلد ۸ نمبر صفحہ ۹۵ میں میری نسبت اپنے گروہ کو اکسایا ہے کہ بشخص القتل ہے۔پس جبکہ ایک قوم کا سرگروہ میری نسبت واجب القتل ہونے کا فتویٰ دیتا ہے تو مجھے گورنمنٹ عالیہ کے انصاف سے امید ہے کہ جو کچھ ایسے شخص کی نسبت قانونی سلوک ہونا چاہیے وہ بلا توقف ظہور میں آوے تا اُس کے معتقد ثواب واج حاصل کرنے کے لئے اقدام قتل کے منصوبے نہ کریں۔فقط راق خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ۲۷ / دسمبر ۱۸۹۸ء تبلیغ رسالت جلد ہفتم صفحه ۶۶ تا ۷۰۔مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۴ ۲۵ تا ۲۵۷ طبع بار دوم ) یا نوٹ۔محمد حسین نے اس قتل کے فتویٰ کے وقت یہ جھوٹا الزام میرے پر لگایا کہ گویا میں نے حضرت عیسی علیہ السلام کی توہین کی ہے اس لئے میں قتل کرنے کے لائق ہوں۔گو یہ سرا سرمحمد حسین کا افترا ہے جس حالت میں مجھے دعوی ہے کہ مسیح موعود ہوں اور حضرت عیسی سے مجھے مشابہت ہے تو ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے۔میں اگر نعوذ باللہ حضرت عیسی کو بُرا کہتا ہوں تو اپنی مشابہت اُن سے کیوں بتلاتا۔کیونکہ اس سے تو خود میرا برا ہونالازم آتا ہے۔منہ منه