حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 133
حیات احمد جلد پنجم حصہ اول یہ تو ایک پہلو اس پیشگوئی کا تھا۔اس کی تحصیل کا موقعہ آگے آرہا ہے۔مولوی محمد حسین کے خلاف فتویٰ مولوی محمد حسین صاحب کے اس رسالہ میں مہدی کا انکار کیا گیا تھا اور اسی انکار پر اس نے حضرت اقدس کے خلاف فتویٰ تکفیر میں ایک وجہ کفر قرار دیا تھا۔اور اب مشیت ایزدی نے اسے خود اس کے اپنے ہی تیار کردہ جال میں پھانس دیا۔وہ اس طرح پر کہ اس عقیدہ انکار مہدی کے متعلق ایک استفتاء ان علماء کرام کی خدمت میں پیش کیا گیا جنہوں نے حضرت اقدس کے خلاف فتویٰ کفر دیا اور انہوں نے جو جواب دیا وہ درج ذیل ہے۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ اسْتَفْتَاء کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرح متین کہ ایک شخص مہدی موعود کے آنے سے جو آخری زمانہ میں آئے گا اور بطور ظاہر و باطن خلیفہ برحق ہوگا اور بنی فاطمہ میں سے ہوگا جیسا کہ حدیثوں میں آیا ہے قطعاً انکار کرتا ہے اور اس جمہوری عقیدہ کو کہ جس پر تمام اہلِ سنت دلی یقین رکھتے ہیں سراسر لغو اور بیہودہ سمجھتا ہے اور ایسا عقیدہ رکھنا ایک قسم کی ضلالت اور الحاد خیال کرتا ہے کیا ہم اس کو اہلِ سنت میں سے اور راہِ راست پر سمجھ سکتے ہیں یا وہ کذاب اور اجماع کا چھوڑنے والا اور ملحد اور دجال ہے بَيِّنُوا تُوجَرُوا۔المرقوم ۲۹ دسمبر ۱۸۹۸ء مطابق ۱۵ رشعبان المبارک ۱۳۱۶ھ اَلسَّائِلِ الْمُعْتَصِمُ بِاللهِ الاَحَد مرزا غلام احمد عَافَاهُ اللَّهُ وَأَيَّدَهُ الـ واب (۱) جو شخص عقیدہ ثابته مسلّمہ اہل سنت و جماعت سے خلاف کرے تو وہ صریح اور بے شک