حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 120
حیات احمد ۱۲۰ جلد پنجم حصہ اول خدا تعالیٰ کے فیصلہ کی طرف نظر رکھیں۔اگر وہ چاہتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ کی نظر میں قابل تائید ہوں تو صلاح اور تقویٰ اور صبر کو ہاتھ سے نہ دیں۔اب اُس عدالت کے سامنے مسل مقدمہ ہے جو کسی کی رعایت نہیں کرتی اور گستاخی کے طریقوں کو پسند نہیں کرتی۔جب تک انسان عدالت کے کمرے سے باہر ہے اگر چہ اس کی بدی کا بھی مؤاخذہ ہے مگر اس شخص کے جرم کا مواخذہ بہت سخت ہے جو عدالت کے سامنے کھڑے ہو کر بطور گستاخی ارتکاب جرم کرتا ہے۔اس لئے میں تمہیں کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی عدالت کی توہین سے ڈرو۔نرمی اور تواضع اور صبر اور تقویٰ اختیار کرو اور خدا تعالیٰ۔ނ چاہو کہ وہ تم میں اور تمہاری قوم میں فیصلہ فرمادے۔بہتر ہے کہ شیخ محمد حسین اور اس کے رفیقوں سے ہرگز ملاقات نہ کرو کہ بسا اوقات ملاقات موجب جنگ و جدل ہو جاتی ہے اور بہتر ہے کہ اس عرصہ میں کچھ بحث مباحثہ بھی نہ کرو کہ بسا اوقات بحث مباحثہ سے تیز زبانیاں پیدا ہوتی ہیں۔ضرور ہے کہ نیک عملی اور راستبازی اور تقویٰ میں آگے قدم رکھو کہ خدا اُن کو جو تقوی اختیار کرتے ہیں ضائع نہیں کرتا۔دیکھو حضرت موسیٰ نبی علیہ السلام جوسب سے زیادہ اپنے زمانہ میں حلیم اور متقی تھے تقویٰ کی برکت سے فرعون پر کیسے فتحیاب ہوئے۔فرعون چاہتا تھا کہ ان کو ہلاک کرے لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کی آنکھوں کے آگے خدا تعالیٰ نے فرعون کو معہ اس کے تمام لشکر کے ہلاک کیا۔پھر حضرت عیسی علیہ السلام کے وقت میں بد بخت یہودیوں نے یہ چاہا کہ ان کو ہلاک کریں اور نہ صرف ہلاک بلکہ اُن کی پاک روح پر صلیبی موت سے لعنت کا داغ لگاویں کیونکہ توریت میں لکھا تھا کہ جو شخص لکڑی پر یعنی صلیب پر مارا جائے وہ لعنتی ہے۔یعنی اس کا دل پلید اور نا پاک اور خدا کے قرب سے دور جا پڑتا ہے اور راندہ درگاہ الہی اور شیطان کی مانند ہو جاتا ہے۔اس لئے لعین شیطان کا نام ہے اور یہ نہایت بد منصوبہ تھا جو حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت سوچا گیا تھا تا اس سے وہ نالائق قوم یہ نتیجہ نکالے کہ یہ شخص پاک دل