حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 107 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 107

حیات احمد ۱۰۷ جلد پنجم حصہ اول انہوں نے سلسلہ الہامات میں ایک یہ خواب بھی اپنی مجھے سنائی کہ میں نے آپ کی نسبت کہا ہے کہ میں ان کی کیوں بیعت کروں بلکہ انہیں میری بیعت کرنی چاہیے۔اس خواب سے معلوم ہوا کہ وہ مجھے مسیح موعود نہیں مانتے اور نیز یہ کہ وہ مسئلہ امامت حقہ سے بے خبر ہیں لہذا میری ہمدردی نے تقاضا کیا کہ تا میں ان کے لئے امامت حقہ کے بیان میں یہ رسالہ لکھوں اور بیعت کی حقیقت تحریر کروں۔سو میں امام حق کے بارے میں جس کو بیعت لینے کا حق ہے اس رسالہ میں بہت کچھ لکھ چکا ہوں۔رہی حقیقت بیعت کی سو وہ یہ ہے کہ بیعت کا لفظ بیع سے مشتق ہے۔اور بیع اس باہمی رضا مندی کے معاملے کو کہتے کہ ہیں جس میں ایک چیز دوسری چیز کے عوض میں دی جاتی ہے سو بیعت سے غرض یہ ہے کہ بیعت کرنے والا اپنے نفس کو مع اس کے تمام لوازم کے ایک رہبر کے ہاتھ میں اس غرض سے نیچے کہ تا اس کے عوض میں وہ معارف حقہ اور برکاتِ کاملہ حاصل کرے جو موجبِ معرفت اور نجات اور رضا مندی باری تعالیٰ ہوں۔اس سے ظاہر ہے کہ بیعت سے صرف تو بہ منظور نہیں۔کیوں کہ ایسی تو بہ تو انسان بطور خود بھی کر سکتا ہے بلکہ وہ معارف اور برکات اور نشان مقصود ہیں جو حقیقی توبہ کی طرف کھینچتے ہیں۔بیعت سے اصل مدعایہ ہے کہ اپنے نفس کو اپنے رہبر کی غلامی میں دے کر وہ علوم اور معارف اور برکات اس کے عوض میں لیوے جن سے ایمان قوی ہو اور معرفت بڑھے اور خدا تعالیٰ سے صاف تعلق پیدا ہو اور اسی طرح دنیاوی جہنم سے رہا ہو کر آخرت کے دوزخ سے مخلصی نصیب ہو اور دنیوی نابینائی سے شفا پا کر آخرت کی نابینائی سے بھی امن حاصل ہو سو اگر اس بیعت کے ثمرہ دینے کا کوئی ثمرہ ہو تو سخت بدذاتی ہوگی کہ کوئی شخص دانستہ اس سے اعراض کرے۔عزیز من! ہم تو معارف اور حقائق اور آسمانی برکات کے بھو کے اور پیاسے ہیں اور ایک سمندر بھی پی کر سیر نہیں ہو سکتے۔پس اگر ہمیں کوئی اپنی غلامی میں لینا چاہے تو یہ بہت سہل طریق ہے کہ بیعت کے مفہوم اور اس کی اصل فلاسفی کو ذہن میں رکھ کر یہ