حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 105 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 105

حیات احمد ۱۰۵ جلد پنجم حصہ اوّل شام کے وقت مغرب کی نماز میں وہ شریک ہوئے چونکہ کچھ دیر میں آئے تھے سب سے پیچھے تھے حضرت اقدس اور آپ کے خدام فارغ ہو کر حسب معمول شاہ نشین پر اور مسجد کے حصہ پر بیٹھے ہوئے تھے منشی عبدالحق نماز سے فارغ ہو چکے تھے مگر منشی الہی بخش ابھی پڑھ رہے تھے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے حضرت اقدس کے ارشاد کے موافق منشی عبدالحق صاحب کو پکا را منشی جی ! آگے آجاؤ منشی عبدالحق صاحب نے کہا الہی بخش نماز ختم کر لیں آخر وہ فارغ ہو کر آگے آئے اور ان کے لئے شاہ نشین پر حضرت اقدس کے بائیں طرف جگہ خالی رکھی ہوئی تھی۔مجھے بھی وہاں ہی جگہ عموماً مل جاتی تھی۔میں منشی عبدالحق صاحب کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کوئی سلسلہ کلام شروع نہ ہوا تھا۔یہ سلسلہ کسی تحریک پر ہوا کرتا تھا۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی عادت تھی کہ جب بعض لوگ باہر سے آئیں یا کسی خط میں کوئی خاص بات قابل دریافت ہو تو حضرت کی خدمت میں عرض کیا کرتے ان کو خاص طور پر یہ خواہش رہتی تھی کہ حضرت کے منہ سے حقائق ومعارف سنتے رہیں انہوں نے حضرت اقدس سے سوال کیا۔یہ کیا بات ہے کہ بلعم باعور جو عابد زاہد تھا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ میں ذلیل ہو گیا ؟ اس پر حضرت اقدس نے تقریر فرمائی جس کا مفہوم وخلاصہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے مامورین و مرسلین کے مقابلہ میں جب کوئی شخص کھڑا ہو جاتا ہے تو اس کا علم اور اس کی ہر قسم کی صلاحیتیں سلب ہو جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے مقام قرب سے اسے نیچے گرا دیا جاتا ہے سامعین پر اس کا اثر ظاہر ہے مگر منشی الہی بخش صاحب کو یہ خیال گزرا کہ اسے ذلیل کرنے کے لئے سوال کیا گیا ہے اور وہ ناراض ہو کر چلے گئے۔حضرت اقدس نے اپنے تخلیہ کی ملاقات میں انہیں سمجھایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے مامور کیا اور غیر مامور بعض اوقات اپنے الہامات کی اپنے آمَانِی کی بناء پر ایک غلط تاویل کر لیتا ہے مگر اُن پر اس کا اثر نہیں ہوا اور حضرت اقدس نے پرانے تعلقات کی بناء پر نہایت نرمی اور محبت سے اس کو سمجھانے کی کوشش کی۔واپس جانے پر ان کی حالت میں ایک انقلاب ہوا جہاں پہلے وہ حضرت اقدس