حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 97 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 97

حیات احمد ۹۷ جلد پنجم حصہ اوّل نسبت شہادت کافی نہیں مل سکی لیکن بہر حال غلام احمد کے حالات کے لحاظ سے یہ طمانیت سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ بھی اس نے تلف نہیں کی۔کچھ مدت سے مرزا غلام احمد نے ملا زمت وغیرہ چھوڑ کر اپنے مذہب کی طرف رجوع کیا اور اس امر کی ہمیشہ سے کوشش کرتا رہا کہ وہ ایک مذہبی سرگروہ مانا جاوے اس نے چند مذہبی کتابیں شائع کیں رسالہ جات لکھے اور اپنے خیالات کا اظہار بذریعہ اشتہارات کیا چنانچہ اس کل کا روائی کا یہ نتیجہ ہوا کہ کچھ عرصہ سے ایک متعدد اشخاص کا گروہ جن کی فہرست ( بہ حروف انگریزی) منسلک ہذا ہے۔اس کو اپنا سر گر وہ ماننے لگ گیا اور بطور ایک علیحدہ فرقہ کے قائم ہو گیا اس فرقہ میں حسب فہرست منسلکہ ہذا ۳۱۸ آدمی ہیں جن میں بلا شبہ بعض اشخاص جن کی تعدا دزیادہ نہیں معزز اور صاحب علم ہیں۔مرزا غلام احمد کا گر وہ جب کچھ بڑھ نکلا تو اس نے اپنی کتب فتح اسلام اور توضیح مرام میں اپنے اغراض کے پورا کرنے کے لئے اپنے پیروؤں سے چندہ کی درخواست کی۔اور ان میں پانچ مدات کا ذکر کیا جن کے لئے چندہ کی ضرورت ہے چونکہ مرزا غلام احمد پر اس کے مریدان کا اعتقاد ہو گیا۔رفتہ رفتہ انہوں نے چندہ بھیجنا شروع کیا اور اپنے خطوط میں بعض دفعہ تو تخصیص بھی کر دی کہ ان کا چندہ ان پانچ مدوں پر سے فلاں مد پر لگایا جاوے اور بعض دفعہ مرزا غلام احمد کی رائے پر چھوڑ دیا کہ جس مد میں وہ ضروری خیال کریں صرف کریں چنانچہ حسب بیان مرزا غلام احمد عذردار اور بروئے شہادت گواہان چندہ کے روپیہ کا حال اسی طرح ہوتا ہے۔الغرض یہ گروہ اس وقت بطور ایک مذہبی سوسائٹی کے ہے جس کا سرگر وہ مرزا غلام احمد ہے اور باقی سب پیروان ہیں اور چندہ باہمی سے اپنی سوسائٹی کے اغراض کو بہ سلوک پورا کرتے ہیں جن پانچ مدات کا اوپر ذکر ہوا ہے وہ حسب ذیل ہیں۔اول مہمان خانہ جس قدر لوگ مرزا غلام احمد کے پاس قادیان میں آتے ہیں خواہ وہ مرید ہوں یا نہ ہوں لیکن وہ مذہبی تحقیقات کے لئے آئے ہوں ان کو وہاں سے کھانا ملتا ہے اور حسب بیان تحریری مختار مرزا غلام احمد اس مد کے چندہ میں سے مسافروں یتیموں اور بیواؤں کی امداد بھی کی جاتی ہے۔