حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 94 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 94

حیات احمد ۹۴ جلد پنجم حصہ اول انجمن اسلامیہ لاہور کی مکروہ کا روائی سراج الاخبار مطبوعہ ۲۵ / جولائی میں اس خبر کے پڑھنے سے کہ انجمن حمایت اسلام لا ہور نے جو میموریل امہات المومنین کی اشاعت کی بابت گورنمنٹ کی خدمت میں بھیجا تھاوہ خدا کے فضل سے نامنظور ہوا ہے ہر ایک مسلمان کو خوشی بھی ہوئی ہوگی اور افسوس بھی اور افسوس اس لئے کہ ہماری معزز انجمن کو جنہوں نے حمایت اسلام کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے ان کو اس مکروہ کا رروائی سے ندامت اٹھانی پڑی۔اول تو اس کتاب کا جواب لکھنے سے عاجز اور تنگ ہو کر گورنمنٹ کی خدمت میں ایسا میموریل بھیجنا ہی شرم کی بات ہے دوسرا اس وقت بھیجنا جب کہ اشاعت ہو چکی اور جو کچھ صدمہ پہنچنا تھاوہ پہنچ چکا پھر سب سے بڑھ کر اس میموریل کا نا منظور ہونا نہایت ہی شرم کی بات ہے۔اراکین انجمن نے کیوں نہ اس طرف توجہ کی کہ اس کتاب کا جواب شائستہ طور سے لکھے اور اپنے سر سے وہ قرض اتارے جس کا اتارنا اس کے واسطے ضروری ہے جیسا کہ انجمن کے ماہواری رسالہ کے پہلے صفحہ پر لکھا ہوا ہوتا ہے۔مقاصد انجمن حمایت الاسلام لاہور معترضین اصول مذہب مقدس اسلام کے جواب تحریری یا تقریری تہذیب کے ساتھ دینے اور اس مقدس مذہب کے اصول کی حمایت اور اشاعت کرنی“۔جب انجمن کے مقاصد میں سے مقصد اوّل یہی ہے کہ معترضین اسلام کا جواب دینا اس کا پہلا فرض ہے تو پھر کیوں معترضین کا جواب نہیں دیا جاتا کہاں گئے ان کے بڑے بڑے لائق پروفیسر اور حامی جو سالانہ جلسہ میں سکندرنامہ کے برابر نظمیں تیار کر کے حاضرین کا دل خوش کرتے ہیں اور ہنساتے ہیں اور کہاں غروب ہو گئے ان کے شمس العماء مولوی و مسٹر نذیر احمد خاں صاحب بہادر اگر انجمن سے یہ بھی نہیں ہوسکتا تو پھر وہ کس مرض کی دوا ہے! اکثر لوگ یہی خیال کرتے ہیں کہ انجمن جواب لکھنے سے عاجز ہے اس واسطے گھبرا کر گورنمنٹ کے پاس دوڑی ایسا ہی پچھلے سال کسی عیسائی نے چار سوال بغرض طلب جواب بھیجے تو مرزا غلام احمد