حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 84 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 84

حیات احمد ۸۴ جلد پنجم حصہ اوّل ہزار برس ہو گیا ہے لکھا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے وقت میں بلا دشام میں طاعون پھوٹی اور اسلام کا لشکر اس مقام سے قریب تھا جہاں طاعون کا بہت زور تھا اس لئے ان میں بھی طاعون کی وارداتیں شروع ہو گئیں اور دس کے قریب اس لشکر میں سے فوت ہو گئے اور سپہ سالار بھی اس مرض میں مبتلا ہو کر فوت ہو گیا اور وہ لشکر ان دنوں میں پہاڑ کی ایک نشیب کی جگہ میں فروکش تھا جہاں اچھی طرح ہوا نہیں آتی تھی۔جب یہ خبر خلیفہ وقت عمر رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے فی الفور اس لشکر کو اس جگہ سے اٹھادیا اور پہاڑ کی ایک اونچی جگہ ان کے لئے تجویز کی گئی جو غالباً اس جگہ سے دو میل کے فاصلہ پر تھی اور معاً اس تدبیر سے طاعون رفع ہوگئی اور پھر اسلامی لشکر میں کوئی واردات طاعون نہ ہوئی۔اور پھر حضرت صاحب نے فرمایا۔کہ اب سوچ لینا چاہیے کہ سرکار انگریزی کی یہ ہدایت کہ کسی واردات کے وقت گھر خالی کر دیا جائے کوئی نئی ہدایت نہیں ہے بلکہ یہ وہی ہدایت ہے جس پر حضرت عمر فاروق جیسے خلیفہ اعظم پابند ہوئے لہذا مسلمانوں کو فخر سے ان ہدایتوں کو قبول کرنا چاہیے کیوں کہ یہ ہدایتیں ان کے دینی احکام کے سراسر موافق ہیں۔پھر یہ بھی فرمایا کہ اب ایسا وقت ہے جس میں مناسب ہے کہ ہماری جماعت سرکا را نگریزی کے منشا کی پوری اطاعت کر کے اپنی نیک نہادی اور نیک چلنی کا ثبوت دیں اور نہ صرف یہی کریں کہ آپ ان ہدایتوں کے پابند ہوں بلکہ بڑی سرگرمی سے اوروں کو بھی سمجھا دیں اور نادانوں کی بدگمانیاں اور بدخیالی دور کریں۔اس کے بعد انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض نادانوں کا یہ خیال ہے کہ ڈاکٹر لوگ بیماروں کو زہر دیتے ہیں مگر ایسا خیال کرنا نہایت قابل شرم طریق ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ چونکہ یہ مرض امراض حادہ میں سے اور مہلک بیماری ہے جو غالباً چومیں گھنٹہ میں ہلاک کر سکتی ہے اس لئے بھی یہ اتفاق ہوجاتا ہے کہ مرض طاعون کا بیمار مثلاً ہیں گھنٹہ تک اپنے گھر میں پڑا رہتا ہے اور بیماردار لوگ کبھی غفلت سے اور کبھی عمداً بیمار کو پوشیدہ رکھتے ہیں اور پھر جس وقت ڈاکٹر کو اطلاع ملتی ہے تو شاید گھنٹہ یا دوگھنٹہ بیمار کی زندگی سے باقی ہوتے ہیں سو شفاخانہ تک پہنچتے ہی اس کی زندگی کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور بیمارمر جاتا ہے جس سے عوام کو وہم گزرتا