حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 403 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 403

حیات احمد ۴۰۳ جلد چهارم شاید بعض صاحبوں کی یہ رائے ہو کہ کیا ضرور ہے کہ اسلام کی طرف سے مذہبی تالیفات ہوں۔اور کیوں اس طریق کو اختیار نہ کیا جائے کہ مخالفوں کی تحریرات کا جواب ہی نہ دیں۔اس کے جواب میں عرض کیا جاتا ہے کہ اول تو کوئی مذہب بغیر دعوت اور امر معروف و نہی منکر کے قائم نہیں رہ سکتا اور اگر ایسا ہونا فرض بھی کر لیں تو پھر اسلام جیسا کوئی مذہب مصیبت زدہ نہ ہوگا۔کیونکہ جس حالت میں پادری صاحبان و آر یہ صاحبان وغیرہ پورے زور و شور سے اسلام پر حملہ کر رہے ہیں۔اور چاہتے ہیں کہ اس کو نابود کر دیں اور ہر یک رنگ سے کیا علم طبعی کے نام سے اور کیا علم طب اور تشریح کے بہانہ سے اور کیا علم ہیئت کے پردہ میں انواع اقسام کے دھو کے لوگوں کو دے رہے ہیں اور ٹھٹھے اور جنسی اور تحقیر کو انتہا تک پہنچا دیا ہے۔پھر اگر ہمارے معزز بھائیوں کی طرف سے یہی تدبیر ہے کہ چپ رہو اور سنے جاؤ۔تو یہ خاموشی مخالفوں کی یک طرفہ ڈگری کا موجب ہوگی اور نعوذ باللہ ہماری خاموشی ثابت کر دے گی کہ ہر یک الزام ان کا سچا ہے۔اور اگر ہم الزامی جواب دیں۔چنانچہ کئی سال سے دیئے جاتے ہیں۔تو کوئی اُن کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔اور ہمارا وقت برباد جاتا ہے۔اور بار بار وہی باتیں اور وہی بہتان ہتک آمیز الفاظ کے ساتھ سناتے ہیں۔جو لوگ حیا اور شرم کو چھوڑ دیں ان کا منہ بجز قانون کے اور کون بند کرے اور ہم اپنے بھائیوں کی صوابدید سے کل مناظرات اور مباحثات اور تحریر اور تقریر سے دست بردار ہو سکتے ہیں اور چپ رہ سکتے ہیں مگر کیا ہمارے معزز بھائی ذمہ وار ہو سکتے ہیں کہ مخالفانہ حملہ کرنے سے ہندوستان کے تمام پادریوں اور آریوں اور برہموؤں کو بھی چپ کرا دیں گے۔اور اگر نہیں کر سکتے اور ان کی گالیوں اور سب و شتم کی اور تدبیر ان کے ہاتھ میں نہیں تو پھر یہ بات کیوں حرام ہے کہ ہم اپنی محسن گورنمنٹ سے اس بارہ میں مدد لیں اور ان آئندہ خطرات سے اپنی قوم اور نیز دوسری قوموں کو بھی بچالیں جو ایسے بے قیدی کے