حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 402
حیات احمد ۴۰۲ جلد چهارم اصول نہیں کیونکہ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ ہر ایک قوم میں کوئی نہ کوئی مصلح گزرا ہے اور ہمیں یہ بھی تعلیم دی گئی ہے کہ ہم پورے علم کے بغیر کسی کی نسبت کوئی رائے ظاہر نہ کریں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَيْكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا * سو یہ پاک عقائد ہمیں بے جاہد زبانیوں اور متعصبانہ نکتہ چینیوں سے محفوظ رکھتے ہیں مگر ہمارے مخالف چونکہ تقویٰ کی راہوں سے بالکل دور اور بے قید اور خلیع الرسن ہیں۔اور قرآن کریم جو سب سے پیچھے آیا ان کو طبعا بُرا معلوم ہوتا ہے۔لہذا وہ مخش گوئی اور بدزبانی اور توہین کی طرف مائل ہو جاتے ہیں اور سچی باتوں کے مقابل پر افتراؤں سے کام لیتے ہیں۔چنانچہ اس تمہیں سال کے عرصہ میں ہمارے مخالفوں نے اس قدر مخش گالیاں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی کتابوں میں دی ہیں اور اس قدر افترا اسلامی تعلیم پر کئے ہیں کہ میں یہ دعویٰ سے کہتا ہوں کہ آپ لوگ تیرہ سوگزشتہ سالوں میں یعنی اسلام کے ابتدائی زمانہ سے آج تک اس کی نظیر نہیں پاؤ گے۔اور اسی پر بس نہیں۔بلکہ یہ ناجائز طریق ترقی پر ہے۔اس لئے ہر ایک ایسے سچے مسلمان کا فرض ہے کہ جو در حقیقت اپنے تئیں مسلمان سمجھتا ہے کہ ایسے موقعہ پر بے غیرتوں اور بے ایمانوں کے رنگ میں بیٹھا نہ رہے۔بلکہ جیسا کہ اپنی حفظ عزت کے لئے کوشش کرتا ہے اور جب عزت برباد ہونے کا کوئی موقعہ پیش آوے تو جہاں تک طاقت وفا کرتی اور بس چل سکتا ہے اپنی آبرو کے بچاؤ کے لئے کوئی تدبیر باقی نہیں چھوڑتا بلکہ ہزارہا روپیہ پانی کی طرح بہا دیتا ہے۔ایسا ہی شریف اور سچے مسلمانوں کے لئے بھی زیبا ہے کہ اس پیارے رسول کی عزت کے لئے بھی جس کی شفاعت کی امید رکھتے ہیں کوشش کریں اور ایمانی نمونہ دکھلانے سے نامراد نہ جائیں۔حاشیہ۔یعنی جس بات کا تجھ کو یقینی علم نہیں دیا گیا۔اس بات کا پیرو کارمت بن اور یاد رکھ کہ کان اور آنکھ اور دل اور جس قدر اعضاء ہیں ان سب اعضاؤں سے باز پرس ہوگی۔منه ( بنی اسرائیل: ۳۷)