حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 88
حیات احمد جلد چهارم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں یہ مشکلات درپیش ہیں کہ ایسی تالیفات کے لئے جو لاکھوں آدمیوں میں پھیلانی چاہیے بہت سے سرمایہ کی حاجت ہے اور اب صورت یہ ہے کہ اوّل ان بڑے بڑے مقاصد کے لئے کچھ بھی سرمایہ کا بندوبست نہیں۔اور اگر بعض پُر جوش مردان دینے کی ہمت اور اعانت سے کوئی کتاب تالیف ہوکر شائع ہو تو باعث کم تو جہی اور غفلت زمانہ کے وہ کتاب بجز چند نسخوں کے زیادہ فروخت نہیں ہوتی اور اکثر نسخے اس کے یا تو سالہا سال صندوقوں میں بند رہتے ہیں یا لله مفت تقسیم کئے جاتے ہیں۔اور اس طرح اشاعت ضروریات دین میں بہت سا حرج ہو رہا ہے اور گو خدا تعالیٰ اس جماعت کو دن بدن زیادہ کرتا جاتا ہے مگر ابھی تک ایسے دولتمندوں میں سے ہمارے ساتھ کوئی بھی نہیں کہ کوئی حصہ معتد بہ اس خدمت اسلام کا اپنے ذمہ لے لے اور چونکہ یہ عاجز خدا تعالیٰ سے مامور ہو کر تجدید دین کے لئے آیا ہے اور مجھے اللہ جل شانہ نے یہ خبر دی ہے کہ وہ بعض امراء اور ملوک کو بھی ہمارے گروہ میں داخل کرے گا اور مجھے اس نے فرمایا کہ میں تجھے برکت پر برکت دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکٹ ڈھونڈیں گے“۔سواسی بناء پر آج مجھے خیال آیا کہ میں ارباب دولت اور مقدرت کو اپنے کام کی نصرت کے لئے تحریک کروں۔اور چونکہ یہ دینی مدد کا کام ایک عظیم الشان کام ہے اور انسان اپنے شکوک اور شبہات اور وساوس سے خالی نہیں ہوتا اور بغیر شناخت وہ صدق بھی پیدا نہیں ہوتا جس سے ایسی بڑی مددوں کا حوصلہ ہو سکے۔اس لئے میں تمام امراء کی خدمت میں بطور ہ پُر جوش مردان دین سے مراد اس جگہ اخویم حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحب بھیروی ہیں جنہوں نے گویا اپنا تمام مال اسی راہ میں لٹا دیا ہے۔اور بعد ان کے میرے دلی دوست حکیم فضل دین صاحب اور نواب محمد علی خاں صاحب کوٹلہ مالیر اور درجہ بدرجہ تمام وہ مخلص دوست ہیں جو اس راہ میں فدا ہورہے ہیں۔منہ