حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 89
حیات احمد ۸۹ جلد چهارم عام اعلان کے لکھتا ہوں کہ اگر ان کو بغیر آزمائش ایسی مدد میں تامل ہو تو وہ اپنے بعض مقاصد اور مہمات اور مشکلات کو اس غرض سے میری طرف لکھ بھیجیں کہ تا میں ان مقاصد کے پورے ہونے کے لئے دعا کروں۔مگر اس بات کو تصریح سے لکھ بھیجیں کہ وہ مطلب کے پورا ہونے کے وقت کہاں تک ہمیں اسلام کی راہ میں مدد دیں گے۔اور کیا انہوں نے اپنے دلوں میں پختہ اور حتمی وعدہ کر لیا ہے کہ وہ ضرور اس قدر مدد دیں گے۔اگر ایسا تجھ کسی صاحب کی طرف سے مجھ کو پہنچا تو میں اس کے لئے دعا کروں گا اور میں یقین رکھتا ہوں کہ بشرطیکہ تقدیر مبرم نہ ہوضرور خدا تعالیٰ میری دعا سنے گا اور مجھ کو الہام کے ذریعہ سے اطلاع دے گا۔اس بات سے نومید مت ہو کہ ہمارے مقاصد بہت پیچیدہ ہیں کیونکہ خدا تو ہر چیز پر قادر ہے۔بشرطیکہ ارادہ ازلی اس کے مخالف نہ ہو۔اور اگر ایسے صاحبوں کی بہت سی درخواستیں آئیں تو صرف ان کو اطلاع دی جائے گی جن کے کشود کار کی نسبت از جانب حضرت عز و جل خوشخبری ملے گی او اور یہ امور منکرین کے لئے نشان بھی ہوں گے۔اور شاید نشان اس قدر ہو جائیں کہ دریا کی طرح بہنے لگیں۔بالآخر میں ہر ایک مسلمان کی خدمت میں نصیحتا کہتا ہوں کہ اسلام کے لئے جاگو کہ اسلام سخت فتنہ میں پڑا ہے۔اس کی مدد کرو کہ اب یہ غریب ہے اور میں اسی لئے آیا ہوں اور مجھے خدا تعالیٰ نے علم قرآن بخشا ہے۔اور حقائق معارف اپنی کتاب کے میرے پر کھولے ہیں اور خوارق مجھے عطا کئے ہیں۔سو میری طرف آؤ تا اس نعمت سے تم بھی حصہ پاؤ۔مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں۔کیا ضرور نہ تھا کہ ایسی عظیم الفتن صدی کے سر پر جس کی کھلی کھلی آفات ہیں ایک مجدد کیا چاہیے کہ خط نہایت احتیاط سے بذریعہ رجسٹری سر بمہر آوے اور اس راز کو قبل از وقت فاش نہ کیا جاوے اور اس جگہ ابھی پوری امانت کے ساتھ وہ راز مخفی رکھا جائے گا اور اگر بجائے خط کوئی معتبر کسی امیر کا آوے تو یہ امر اور بھی زیادہ مؤثر ہوگا۔منہ