حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 59
حیات احمد ۵۹ جلد چهارم لگادی کہ میں اس صورت میں قسم کھاؤں گا کہ دس ہزار روپیہ میرے لئے جمع کر دیا جائے۔اس تصریح سے کہ اگر میں زندہ رہا تو اس روپیہ کا میں حقدار ہوں گا۔سو ہم نے اس نئی شرط کو بھی جو ہمارے اشتہار کے منشاء سے زائد تھی اس شرط کے ساتھ قبول کیا کہ لالہ گنگا بشن اس مفصلہ ذیل مضمون کی قسم بذریعہ کسی مشہور اخبار کے شائع کریں اور نیز قادیان میں آکر بالمواجہ بھی میرا نام لے کر یہ قسم کھاویں کہ درحقیقت لیکھرام کے قتل میں اس شخص کی شراکت ہے۔اور اس کی خفیہ سازش سے اُس کی موت ہوئی ہے۔اور اگر یہ صحیح نہیں ہے تو ایک سال تک مجھ کو وہ موت آوے جس میں انسان کے منصوبہ کا دخل نہ ہو۔اور ایسا ہی اخبار کے ذریعہ سے اور نیز بالمواجہ بھی یہ اقرار کریں کہ اگر میں ایک سال کے اندر حسب منشاء اس قسم کے مرگیا تو میرا مرنا اس بات پر گواہی ہوگا کہ درحقیقت لیکھرام خدا کے غضب سے اور پیش گوئی کے موافق ہلاک ہوا ہے۔اور نیز اس بات پر گواہی ہوگی کہ در حقیقت دین اسلام ہی سچا دین ہے اور باقی تمام مذاہب جیسا کہ آریہ مت سناتن دھرم اور عیسائی وغیرہ سب بگڑے ہوئے عقیدے ہیں۔اس پر لالہ گنگا بشن صاحب ضمیمہ بھارت سُدھار ۱۱ اپریل ۱۸۹۷ء اور ہمدرد ہند لاہور ۱۲ / اپریل ۱۸۹۷ء میں یہ فضول عذر شائع کرتے ہیں کہ یہ شرط اشتہار ۱۵ مارچ ۱۸۹۷ء کے موجب نہیں تھی۔لہذا ہم اُن کو اطلاع دیتے ہیں کہ اوّل تو خود تم نے ہمارے اشتہار ۱۵ مارچ ۱۸۹۷ء کی پابندی اختیار نہیں کی۔اور اپنی طرف سے دس ہزار روپیہ جمع کرانے کی شرط زیادہ کردی۔جس پر ہمارا حق تھا کہ ہم بھی تمہاری اس قدر ترمیم پر جس قدر چاہتے پہلے اشتہار کی تعمیل کرتے اور یہ ایک سیدھی بات ہے کہ آپ نے ہمارے اشتہار کے منشاء سے آگے قدم رکھ کر ایک نئی شرط اپنے فائدہ کے لئے زیادہ کر دی۔اس لئے ہمارا بھی حق تھا کہ ہم بھی نئی شرط کے مقابل پر جس قدر چاہیں بڑھا دیں۔علاوہ اس کے اگر غور