حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 56
حیات احمد جلد چهارم اس روز سے کہ وہ کسی مشہور پر چہ کے ذریعہ سے اقرار مذکورہ بالا شائع کریں۔میں ایک ماہ تک یا غایت دو ماہ تک دس ہزار روپیہ ان کے لئے گورنمنٹ میں جمع کرا دوں گا یا کسی دوسری ایسی جگہ پر جس پر فریقین مطمئن ہوسکیں۔اور یہ جو میں نے پر کہا کہ اس روز سے دو ماہ تک روپیہ جمع کراؤں گا جب کہ وہ اپنا اقرار شائع کریں اس سے میرا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اس پر چہ سما چار ۳ را پریل ۱۸۹۷ء میں اس اقرار کو شائع نہیں کیا جس اقرار کو میں قسم کے ساتھ شائع کرانا چاہتا ہوں۔یعنی یہ اقرار کہ وہ میری نسبت نام لے کر یہ امر شائع کردیں کہ میں یقیناً جانتا ہوں کہ واقعہ قتل پنڈت لیکھر ام اس شخص کے حکم یا اس کے مشورہ سے یا اس کے علم سے ہوا ہے اور جیسا کہ اس کا دعوی ہے خدا کی طرف سے یہ کوئی نشان نہیں بلکہ اسی کی اندرونی اور خفیہ سازش کا نتیجہ ہے اور اگر میں قسم کے دن سے ایک سال تک فوت ہو گیا تو میرا مرنا اس بات پر گواہی ہوگی کہ در حقیقت لیکھرام خدا کے غضب اور پیش گوئی کے موافق فوت ہوا ہے۔اور نیز اس بات پر گواہی ہوگی کہ در حقیقت دین اسلام ہی سچا مذہب ہے اور باقی آریہ مذہب یا ہندو مذہب و عیسائی مذہب وغیرہ مذاہب سب بگڑے ہوئے عقیدے ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں۔اس اقرار کے لکھانے سے غرض یہ ہے کہ ہمارے تمام مناظرات سے اصلی مقصود یہی ہے کہ دین اسلام ہی سچا دین ہے اور اسی غرض سے لیکھرام کی نسبت اس کی رضا مندی سے یہ پیشگوئی کی گئی تھی۔لہذا اس مقام میں بھی طرف ثانی کا یہ کھلا کھلا اقرار شائع ہونا بہت ضروری ہے۔اور لالہ گنگا بشن صاحب یاد رکھیں کہ ٹھیک ٹھیک ان الفاظ کے ساتھ کسی مشہور اخبار میں اس کو شائع کرنا ضروری ہوگا۔اور نیز یہ کہ قادیان میں آکر قسم بھی ان ہی الفاظ کے ساتھ کھانی پڑے گی۔اور یہ وہم نہ کریں کہ وہ ایسے اقرار سے کسی قانونی بیچ میں آسکتے وہ پرچہ جس میں اقرار حسب نمونہ شائع کریں بذریعہ رجسٹری مجھ کو بھیجنا ہوگا تا میں مطلع ہو جاؤں۔منہ