حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 55
حیات احمد ۵۵ جلد چهارم اما الجواب۔واضح ہو کہ مجھے تینوں شرطیں اُن کی بسر و چشم منظور ہیں۔اور اس میں کسی طرح کا عذر نہیں۔جس عدالت میں چاہیں میں صاف صاف اقرار کر دوں گا کہ اگر لالہ گنگا بشن صاحب میری بددعا سے ایک سال تک بچ گئے تو مجھے منظور ہے کہ میں مجرم کی طرح پھانسی دیا جاؤں۔اور گورنمنٹ سخت نا انصافی کرے گی اگر اس وقت مجھ کو پھانسی نہ دیوے۔کیونکہ جب کہ لالہ گنگا بین صاحب جلسہ عام میں قسم کھا کر کہیں گے کہ ”میں بچے دل سے کہتا ہوں کہ در حقیقت پنڈت لیکھرام کا یہی شخص قاتل ہے اور اگر یہ شخص قاتل نہیں ہے بلکہ دین اسلام کی سچائی ظاہر کرنے کے لئے خدا کی طرف سے یہ نشان ظاہر ہوا تو اے سچ کے حامی خدا ! ایک سال تک مجھ کو سزائے موت دے۔پس اس صورت میں جبکہ وہ سزائے موت سے بچ جائیں گے تو اس میں کیا شک ہے کہ یہی ثابت ہو جائے گا کہ میں قاتل تھا یا قتل کے مشورہ میں شریک تھا یا اس پر کسی طرح سے اطلاع رکھتا تھا تو اس وجہ سے قانونا مجھے پھانسی دینا نا جائز نہ ہوگا۔گورنمنٹ ہزاروں مقدمات قسم پر فیصلہ کرتی ہے۔سو یہ گورنمنٹ کے اصول سے بالکل چسپاں بات ہے کہ اس طرح پر مجرم کو اس کی سزا تک پہنچائے۔غرض میں طیار ہوں نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ گورنمنٹ کی عدالت میں اقرار کر سکتا ہوں کہ جب میں آسمانی فیصلہ سے مجرم ٹھہر جاؤں تو مجھ کو پھانسی دیا جائے۔میں خوب جانتا ہوں کہ خدا نے میری پیش گوئی کو پوری کر کے دین اسلام کی سچائی ظاہر کرنے کے لئے اپنے ہاتھ سے یہ فیصلہ کیا ہے۔پس ہرگز ممکن نہیں ہوگا کہ میں پھانسی ملوں یا ایک خر مبرہ بھی کسی تکذیب کرنے والے کو دوں بلکہ وہ خدا جس کے حکم سے ہر ایک جنبش وسکون ہے اس وقت کوئی اور ایسا نشان دکھائے گا جس کے آگے گردنیں جھک جائیں!! ایسا ہی لالہ گنگا بشن صاحب کی دوسری شرط کی نسبت میں ان کو تسلی دیتا ہوں کہ