حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 54 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 54

حیات احمد ۵۴ جلد چهارم بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ قرآن شریف اِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ " خدا اُن کے ساتھ ہے جو اس سے ڈرتے ہیں اور وہ جو نیکی کرنا ان کا اصول ہے۔آج میں نے ایک مضمون از طرف ایک صاحب گنگا بشن نام پر چہ پنجاب سماچار را پریل ۱۸۹۷ء میں پڑھا ہے۔صاحب راقم نے اخبار مذکور میں اپنا پتہ صرف یہ لکھا ہے ڈریل ماسٹر ریلوے پولیس۔“ یہ پتہ کچھ پورا نہیں معلوم ہوتا۔اس لئے مناسب سمجھا گیا کہ ان کا جواب چھاپ کر شائع کر دیا جائے۔مگر وہ جو اپنی اس تحریر مطبوعہ میں ظاہر کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک خط ڈاک میں براہِ راست میری طرف روانہ کیا ہے وہ خط مجھ کو نہیں پہنچا شاید کیا سبب ہوا۔بہر حال اس اخبار کے ذریعہ سے مجھ کو صاحب راقم کے منشاء سے اطلاع مل گئی ہے۔لہذا ذیل میں جواب لکھتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ یہ جواب ۱۰ اپریل ۱۸۹۷ء کی میعاد کے اندر بلکہ کئی دن ان کو مل جائے گا۔لالہ گنگا بشن صاحب میرے اس اشتہار کے جواب میں جس میں میں نے ایسے شخصوں میں سے کسی کو قسم کھانے کے لئے بلایا تھا جو میرے قتل کی سازش پر دلی یقین رکھتا ہو۔تحریر فرماتے ہیں کہ ”میں قسم کھانے کو تیار ہوں مگر اس بارے میں تین شرطیں ٹھہراتے ہیں۔(۱) ایک یہ کہ مجھے جو پیش گوئی کرنے والا ہوں پیشگوئی کے پورا نہ ہونے کی حالت میں پھانسی دی جائے (۲) دوسری یہ کہ ان کے لئے دس ہزار روپیہ گورنمنٹ میں جمع کرایا جائے یا ایسے بنک میں جن میں ان کی تسلی ہو سکے اور اگر وہ بددعا سے نہ مریں تو ان کو وہ رو پیل جائے (۳) تیسری یہ کہ جب وہ قادیان میں قسم کھانے کے لئے آویں تو اس بات کا ذمہ لیا جائے کہ وہ لیکھرام کی طرح قتل نہ کیے جائیں۔النحل: ١٢٩