حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 53 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 53

حیات احمد ۵۳ جلد چهارم والے کو آپ آنا چاہیے۔مگر مقابلہ کرنے والا ایک ایسا شخص ہو جو دل کا بہت بہادر اور جوان اور مضبوط ہو۔اب بعد اس کے سخت بے حیائی ہوگی کہ کوئی غائبانہ میرے پر ایسے ناپاک شبہات کرے۔میں نے طریق فیصلہ آگے رکھ دیا ہے۔اگر میں اس کے بعد روگردان ہو جاؤں تو مجھ پر خدا کی لعنت اور اگر کوئی اعتراض کرنے والا بہتانوں سے باز نہ آوے اور اس طریق فیصلہ سے طالب تحقیق نہ ہو تو اس پر لعنت۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحه ۵۷،۵۶ طبع بار دوم ) اس اعلان پر آریہ سماج کے لیڈروں میں سے کسی شخص کو یہ جرأت نہیں ہوئی کہ وہ میدان مقابلہ میں آتا اور اس طرح پر دوسری مرتبہ آریہ سماج اور دوسرے معززین اہل ہنود بلکہ تمام مخالفین اسلام نے پنڈت لیکھرام صاحب کے متعلق پیش گوئی کی صداقت پر مہر کر دی یہ حق تو ان کا ہی تھا کہ اگر وہ سازش سمجھتے تھے اور حضرت اقدس کے دعوئی الہام کو غلط یقین کرتے تھے تو میدان مقابلہ میں آکر حق کا پر کاش کر دیتے۔مگر کسی کو ہمت نہیں ہوئی ے گنگا بشن مقابلہ میں ☆ چه بیست با بدادند این جوان را کہ ناید کس به میدان محمد مگر ایک شخص گنگا بشن نامی مقابلہ میں نکلا اور اس نے اخبار پنجاب سما چار مورخہ ۳ را پریل ۱۸۹۷ء میں قسم کھانے پر آمادگی کا اظہار کیا۔اس کا جواب حضرت اقدس نے ۱۵ اپریل ۱۸۹۷ء کو مندرجہ ذیل شائع کیا۔اور حضرت اقدس نے گنگا بشن کے شرائط وغیرہ کو اسی کے الفاظ میں من وعن شائع فرما دیا اور وہ اشتہار حسب ذیل ہے۔ترجمہ۔اس جوان کو کس قدر رعب دیا گیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے میدان میں کوئی ( مقابلہ پر ) نہیں آتا۔