حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 576
حیات احمد جلد چهارم محمود کی آمین ۱۸۹۷ء میں حضرت طلیقہ صبیح ثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز (جو ان ایام میں میاں محمود احمد تھے ) کی تقریب آمین بھی دہوم دہام سے ہوئی اور حضرت اقدس نے اس تقریب پر بعض احباب کو مدعو کیا۔اور ایک دعائیہ نظم اس موقعہ کے لئے لکھی جو محمود کی آمین کے نام سے مشہور ہے اس کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ درد دل سے آپ نے دعائیں کیں اور فرض تبلیغ ادا کیا میں اسے یہاں درج کرتا ہوں کہ وہ بجائے خود ایک نشان ہے۔بقیہ حاشیہ۔شیخ بٹالوی کو یہ جلسہ منظور نہیں تو دوسرا طریق تصفیہ یہ ہے کہ بلا توقف ازالہ حیثیت عرفی میں میرے پر نالش کرے کیونکہ اس سے زیادہ اور کیا ازالہ حیثیت عرفی ہوگا کہ عدالت نے اس کو کرسی دی اور میں نے بجائے کرسی جھڑ کیاں بیان کیں۔اور عدالت نے بیان کیا کہ وہ اور اس کا باپ کرسی نشین رئیس ہیں اور میں نے اس کا انکار کیا اور استغاثہ میں وہ یہ لکھا سکتا ہے کہ مجھے عدالت ڈگلس صاحب بہادر میں کرسی ملی تھی اور کوئی جھڑ کی نہیں ملی۔اور اس شخص نے عام اشاعت کر دی ہے کہ مانگنے پر بھی کرسی نہیں ملی بلکہ جھڑ کیاں ملیں۔اور ایسا ہی استغاثہ میں یہ بھی لکھا سکتا ہے کہ مجھے قدیم سے عدالت میں کرسی ملتی تھی اور ضلع کے کرسی نشینوں میں میرا نام بھی درج ہے۔اور میرے باپ کا نام بھی درج تھا لیکن اس شخص نے ان سب باتوں سے انکار کر کے خلاف واقعہ بیان کیا ہے۔پھر عدالت خود تحقیقات کرلے گی کہ آپ کو کرسی کی طلب کے وقت کرسی ملی تھی یا جھڑ کیاں ملی تھیں اور دفتر سے معلوم کر لیا جائے گا کہ آپ اور آپ کے والد صاحب کب سے کرسی نشین رئیس شمار کئے گئے ہیں کیوں کہ سرکاری دفتروں میں ہمیشہ ایسے کاغذات موجود ہوتے ہیں جن میں کرسی نشین رئیسوں کا نام درج ہوتا ہے اگر شیخ مذکور نے ان دونوں طریقوں میں سے کوئی طریق اختیار نہ کیا تو پھرنا چار ہمارا یہی قول ہے کہ لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِيْنَ زیادہ کیا لکھیں۔اور یاد رہے کہ ہمیں بالطبع نفرت تھی کہ ایسے ایک شخصی معاملہ میں قلم اٹھا ئیں اور ذاتیات کے جھگڑوں میں اپنے تئیں ڈالیں اور اگر شیخ محمد حسین بٹالوی صرف اسی قدر جھوٹ پر کفایت کرتا کہ مجالس میں ہمارا ذکر درمیان نہ لاتا اور صرف اپنی پردہ پوشی کے لئے کرسی مانگنے کے معاملہ سے انکار کرتا رہتا تو ہمیں کچھ ضرورت نہ تھی کہ اصل حقیقت کو پبلک پر کھولتے لیکن اس نے نہایت خیرگی اختیار کر کے ہر ایک مجلس میں ہماری تکذیب شروع کی اور سراسر افترا سے میری نسبت ہر ایک جگہ یہ دعویٰ کیا کہ یہ شخص کا ذب ہے اور اس نے میرے پر کرسی کے معاملہ میں جھوٹ باندھا ہے۔اور اس طرح پر عوام کے دلوں پر برا اثر ڈالنا چاہا۔تب ہم نے اُس کے اس دروغ کو