حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 577
حیات احمد ۵۷۷ محمود کی آمین (مطبوعہ ۷ / جون ۱۸۹۷ء) جلد چهارم حمد و ثنا اُسی کو جو ذات جاودانی ہمسر نہیں ہے اُس کا کوئی نہ کوئی ثانی باقی وہی ہمیشہ غیر اُس کے سب ہیں فانی غیروں سے دل لگانا جھوٹی ہے سب کہانی سب غیر ہیں وہی ہے اک دل کا یار جانی دل میں میرے یہی ہے سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي ہے پاک پاک قدرت عظمت ہے اسکی عظمت لرزاں ہیں اہل قربت کروبیوں پہ ہیبت بقیہ حاشیہ۔اکثر نادانوں کے دلوں پر مؤثر دیکھ کر محض حق کی حمایت میں یہ اشتہار لکھا تا بعض ناواقف ایک راست گو کو جھوٹا سمجھ کر ہلاک نہ ہو جا ئیں اور تا اس کی یہ دجالی تقریر میں حقانی سلسلہ کی رہزن نہ ہوں۔غرض اسی ضرورت کی وجہ سے ہمیں اس کے اس مکر وہ جھوٹ کو کھولنا پڑا۔بالآخر یہ بھی یادر ہے کہ وہ خط شیخ محمد حسین بٹالوی کا میرے پاس موجود ہے جو آج یکم مارچ ۱۸۹۸ء کو بٹالہ سے اُس نے بھیجا ہے جس میں میرے بیان کرسی نہ ملنے اور جھڑ کی کھانے سے صاف انکار کیا ہے اور ایسا ہی ان لوگوں کے خط بھی محفوظ ہیں جن کے روبرو اس نے طرح طرح کی دروغگوئی سے اس واقعہ کو پوشیدہ کرنا چاہا ہے جیسا کہ اوپر لکھ چکا ہوں۔اور میں مناسب دیکھتا ہوں کہ ان معزز گواہوں کے نام بھی اس جگہ درج کر دوں۔جنہوں نے واقعہ مذکورہ بالا بچشم خود دیکھا اور یا عین موقعہ پر سنا اور جو کچہری میں حاضر تھے۔اور وہ یہ ہیں۔م فضل الدین صاحب بھیروی مرزا یعقوب بیگ صاحب سینیر اینگلو ور نیکیولر کلاس لا ہور دروازہ کے باہر سے دیکھتے ہیں مولوی حکیم نورالدین صاحب بھیروی شیخ عبدالعزیز صاحب نومسلم قادیان صاحبزادہ مظہر قیوم صاحب لد ہیانہ شیخ نور احمد صاحب ما لک مطبع ریاض ہند امرتسر صاحبزادہ منظور محمد صاحب لد ہیانوی مولوی خان ملک صاحب حافظ احمد اللہ خان صاحب قادیان یہ دونوں صاحب کمرہ عدالت کے اندر تھے اور باقی اکثر صاحبان سردار عبد العزیز خان صاحب حال وارد قا دیان قاضی غلام حسین صاحب بھیروی سٹوڈنٹ لاہور میاں کرم داد صاحب حال وارد قادیان شیخ عبدالرحمن صاحب نو مسلم قادیان میاں عبد الحق صاحب جہلمی شیخ عبدالرحیم صاحب نومسلم قادیان میاں رمضان صاحب آتش باز قادیان چودہری نبی بخش صاحب بٹالہ میاں جیون بٹ رفوگر قلعہ بھنگیاں امرت سر منشی تاج الدین صاحب دفتر اگزیمر ریلوے لاہور مولوی محمد اسمعیل صاحب سود اگر در