حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 574
حیات احمد چادر پر سے کس نے اٹھایا ۵۷۴ جلد چهارم مولوی محمد حسین صاحب جب عدالت اور کمرہ عدالت سے باہر برآمدہ میں بچھی ہوئی کرسی پر سے اٹھائے جانے کے بعد میدان میں آگیا تو مکرم میاں محمد بخش صاحب برادر مرحوم میاں محمد اکبر صاحب تاجر چوب کی چادر پر آبیٹھا اس وقت تک میاں محمد بخش صاحب احمدیت میں داخل نہ تھے اور اہلِ حدیث کی طرف رجحان رکھتے تھے اور اس دن سے پہلے مولوی محمد حسین صاحب سے گونہ عقیدت بھی رکھتے تھے لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ وہ عیسائیوں کی مدد کے لئے آیا ہے تو بقیہ حاشیہ۔دیکھ کر بے اختیاری کے عالم میں اپنے طمع خام کو ظاہر کیا اور نہ چاہا کہ میرا دشمن کرسی پر ہو اور میں زمین پر بیٹھوں اس لئے بڑے جوش سے کچہری کے اندر داخل ہوتے ہی کرسی کی درخواست کی۔اور چونکہ عدالت میں نہ اس کو اور نہ اس کے باپ کو کرسی ملتی تھی اس لئے وہ درخواست زجر اور توبیخ کے ساتھ رڈ کی گئی۔اور درحقیقت یہ سوال نہایت قابل شرم تھا کیونکہ سچ یہی ہے کہ نہ یہ شخص اور نہ اس کا باپ رحیم بخش کبھی رئیسان کرسی نشین میں شمار کئے گئے۔اور اگر یہ یا اس کا باپ کرسی نشین تھے تو گویا سرلیپل گریفن نے بہت بڑی غلطی کی کہ جو اپنی کتاب تاریخ ریکسان پنجاب میں ان دونوں کا نام نہیں لکھا۔غضب کی بات ہے کہ کہلا نا مولوی اور اس قدر فاش دروغگو ئی اور پھر آپ اپنے خط میں کرسی نہ ملنے کا مجھ سے ثبوت مانگتے ہیں۔گویا اپنی ذلت کو کامل طور پر تمام لوگوں پر ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔اور اپنے خط میں وعدہ کرتے ہیں کہ اگر وہ کا ذب نکلیں تو اپنے تئیں شکست یافتہ تصور کریں گے اور پھر کبھی رد و قدح نہیں کریں گے۔افسوس کہ اس شخص کو جھوٹ بولتے ذرہ شرم نہیں آئی۔جھوٹ کہ اکبر الکبائر اور تمام گناہوں کی ماں ہے۔کس طرح دلیری سے اس شخص نے اس پر زور دیا ہے۔یہی دیانت اور امانت ان لوگوں کی ہے جس سے مجھے اور میری جماعت کو کا فرٹھہرایا اور دنیا میں شور مچایا۔واضح رہے کہ ہمارے بیان مذکورہ بالا کا گواہ کوئی ایک دو آدمی نہیں بلکہ اس وقت کہ کچہری کے اردگرد صد ہا آدمی موجود تھے جو کرسی کے معاملہ کی اطلاع رکھتے ہیں۔صاحب ڈپٹی کمشنر ایم ڈبلیوڈ گلس صاحب بہادرخود اس بات کے گواہ ہیں جنہوں نے بار بار کہا کہ تجھے کرسی نہیں ملے گی۔بک بک مت کر اور پھر کپتان لیمار چنڈ صاحب ڈسٹرکٹ سپر نٹنڈنٹ اس بات کے گواہ ہیں کہ کرسی مانگنے پر محمد حسین کو کیا جواب ملا تھا۔اور کیسی عزت کی گئی تھی۔پھر منشی غلام حیدر خان صاحب سپر نٹنڈنٹ ضلع جواب تحصلیدار ہیں اور مولوی فضل دین صاحب پلیڈر اور لالہ رام بھجدت صاحب وکیل اور ڈاکٹر کلارک صاحب جن کی طرف سے یہ حضرت گواہ ہو کر گئے تھے۔اور صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر کے تمام اردلی یہ سب میرے بیان مذکورہ بالا کے گواہ ہیں اور اگر کوئی شخص ان میں سے محمد حسین