حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 571
حیات احمد ۵۷۱ جلد چهارم کے دل میں خدا نے بٹھا دیا کہ مقدمہ بے اصل اور جھوٹا ہے اور ناحق تکلیف دی گئی ہے اس لئے ہر ایک مرتبہ جو میں حاضر ہوا وہ عزت سے پیش آیا اور مجھے کرسی دی۔اور جب میں اُس کی عدالت سے بری کیا گیا تو اس دن مجھ کو عین کچہری میں مبارکباد دی۔موحدین کے ایڈوکیٹ صاحب جو بٹالہ کے مولوی ہیں اور عیسائیوں کی طرف سے گواہ تھے جن کا نام لینے کی اب ضرورت نہیں انہوں نے جب عدالت میں اس قدر میری عزت دیکھی کہ یہ تو ایک ملزم تھا اور اس کو ایک اعزاز سے کرسی دی گئی تو مولوی صاحب موصوف اس طمع خام میں پڑے کہ مجھے صاحب ضلع سے کرسی مانگنی چاہیے جبکہ اس ملزم کو ملی ہے تو مجھے تو بہر حال ملے گی پس جب وہ گواہی کے لئے بلائے گئے تو انہوں نے آتے ہی پہلے یہی سوال کیا کہ مجھے کرسی ملنی چاہیے مگر افسوس کہ صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر نے ان کو جھڑک دیا اور کہا کہ تمہیں کرسی نہیں مل سکتی یہ تو رئیس ہیں اور ان کا باپ کرسی نشین تھا اس لئے ہم نے کرسی دی۔سو جو لوگ میری ذلت دیکھنے کے لئے آئے تھے ان کا یہ انجام ہوا اور یہ بھی خدا تعالیٰ کا ایک نشان تھا کہ جو کچھ میرے لئے ان لوگوں نے چاہا وہ ان کو پیش آگیا ورنہ مجھے عدالتوں سے کچھ تعلق نہ تھا۔میری عادت نہیں تھی کہ کسی کو ملوں اور نہ میرا کسی سے کچھ تعارف تھا۔پھر اس کے بعد خدا تعالیٰ کا یہ فضل ہوا کہ میں عزت کے ساتھ بُری کیا گیا اور حاکم مجوزہ نے ایک قسم کے ساتھ مجھے کہا کہ آپ کو مبارک ہو آپ بَری کئے گئے۔سو یہ خدا تعالیٰ کا ایک بھاری نشان ہے کہ باوجودیکہ قوموں نے میرے ذلیل کرنے کے لئے اتفاق کرلیا تھا مسلمانوں کی طرف سے مولوی محمد حسین صاحب ایڈوکیٹ موحدین تھے اور ہندوؤں کی طرف سے لالہ رام بھجدت صاحب وکیل تھے اور عیسائیوں کی طرف سے ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب تھے اور جنگ احزاب کی طرح بالا تفاق ان قوموں نے میرے پر چڑھائی کی تھی لیکن خدا تعالیٰ نے مجسٹریٹ