حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 570
حیات احمد ایک کا ذکر کروں گا اور وہ یہ ہے ۵۷۰ جلد چهارم مخالفوں میں پھوٹ اور ایک شخص متنافس کی ذلت اور اہانت اور ملامت خلق۔“ مخالفوں میں پھوٹ کا مظاہرہ تو عبدالحمید نے اپنے جھوٹے اور سازشی بیان سے انحراف کر کے سچا بیان دے دیا۔مولوی محمد حسین متنافس اور متنافس شخص کا ظہور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی صورت میں ہوا۔یہ شخص جیسا کہ ظاہر ہو چکا حضرت اقدس کی مخالفت میں حد سے بڑھ چکا تھا۔اور اس غلو کی وجہ سے آسمان پر اس کا نام متنافس قرار پایا۔اس کے متعلق اللہ تعالیٰ کے کلام میں تین باتیں ہیں ذلت اور اہانت اور ملامت خلق۔اور یہ تینوں ظاہر ہوئیں اور عجیب بات یہ ہے کہ ان ہر سہ قسم کے عذاب کو اس نے خود اپنے لئے پیدا کر لیا۔مولوی محمد حسین صاحب اس مقدمہ میں ڈاکٹر کلارک کے گواہ تھے۔جب وہ عدالت میں شہادت کے لئے پیش ہوئے تو اُس نے عدالت سے کرسی طلب کی اس واقعہ کا ذکر راجہ غلام حیدر خاں مرحوم کے تحریری بیان میں بھی دیا ہے۔حضرت اقدس تحریر فرماتے ہیں :- اگست کی ۱۰ر تاریخ کو اس نظارہ کے لئے مولوی محمد حسین صاحب موحدین کے ایڈوکیٹ اس تماشا کے دیکھنے کے لئے کچہری میں آئے تھے تا اس بندہ درگاہ کو جہتھکڑی پڑی ہوئی اور کنسٹیلوں کے ہاتھ میں گرفتار دیکھیں اور دشمن کی ذلت کو دیکھ کر خوشیاں مناویں۔لیکن یہ بات ان کو نصیب نہ ہوسکی بلکہ ایک رنج دہ نظارہ دیکھنا پڑا اور وہ یہ کہ جب میں صاحب مجسٹریٹ ضلع کی کچہری میں حاضر ہوا تو وہ نرمی اور اعزاز سے پیش آئے اور اپنے قریب میرے لئے کرسی بچھوا دی اور نرم الفاظ سے مجھ کو یہ کہا کہ گو ڈاکٹر کلارک آپ پر اقدام قتل کا الزام لگاتا ہے مگر میں نہیں لگاتا۔خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کہ یہ ڈپٹی کمشنر ایک زیرک اور دانشمند اور منصف مزاج مجسٹریٹ تھا۔اس