حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 567 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 567

حیات احمد ۵۶۷ جلد چهارم سمجھنے میں غلطی ہوئی۔لیکن ایک مہا پرش اور روحانی آدمی کے لحاظ سے بہت بڑے مرتبہ کے انسان تھے۔اور میرا عقیدہ یہ ہے کہ ان کے متعلق ایک واقعہ سے ہوا۔حکیم غلام نبی زُبْدَةُ الْحُكَمَاء کو آپ جانتے ہیں۔اور مولوی فضل الدین صاحب کو بھی۔حکیم صاحب کے مکان پر اکثر دوستوں کا اجتماع شام کو ہوا کرتا تھا میں بھی وہاں چلا جاتا تھا۔ایک روز وہاں کچھ احباب جمع تھے اتفاق سے مرزا صاحب کا ذکر آ گیا۔ایک شخص نے ان کی مخالفت شروع کی لیکن ایسے رنگ میں کہ وہ شرافت و اخلاق کے پہلو سے گری ہوئی تھی۔مولوی فضل الدین صاحب مرحوم کو یہ سن کر بہت جوش آ گیا۔اور انہوں نے بڑے جذبہ سے کہا کہ میں مرزا صاحب کا مرید نہیں ہوں ان کے دعاوی پر میرا اعتقاد نہیں اس کی وجہ خواہ کچھ ہو۔لیکن مرزا صاحب کی عظیم الشان شخصیت اور اخلاقی کمال کا قائل ہوں۔میں وکیل ہوں اور ہر قسم کے طبقہ کے لوگ مقدمات کے سلسلہ میں میرے پاس آتے ہیں۔اور ہزاروں کو میں نے اس سلسلہ میں دوسرے وکیلوں کے ذریعہ بھی دیکھا ہے۔بڑے بڑے نیک نفس آدمی جن کے متعلق کبھی وہم بھی نہیں آسکتا تھا کہ وہ کسی قسم کی نمائش یا ریا کاری سے کام لیں گے۔انہوں نے مقدمات کے سلسلے میں اگر قانونی مشورہ کے ماتحت اپنے بیان کو تبدیل کرنے کی ضرورت سمجھی بلا تامل بدل دیا۔لیکن میں نے اپنی عمر میں مرزا صاحب کو ہی دیکھا ہے جنہوں نے سچ کے مقام سے قدم نہیں ھٹایا میں ان کے ایک مقدمہ میں وکیل تھا۔یہ مقدمہ یہی پادری ہنری مارٹن کلارک والا مقدمہ تھا۔ناقل ) اس مقدمہ میں میں نے ان کے لئے ایک قانونی بیان تجویز کیا اور ان کی خدمت میں پیش کیا انہوں نے اُسے پڑھ کر کہا کہ اس میں تو جھوٹ ہے میں نے کہا کہ ”ملزم کا بیان حلفی نہیں ہوتا اور قانونا اُسے اجازت ہے کہ جو چاہے وہ بیان کرے۔“ اس پر آپ نے فرمایا۔قانون نے تو اُسے یہ اجازت دے دی ہے کہ جو چاہے بیان کرے مگر خدا تعالیٰ