حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 566 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 566

حیات احمد ۵۶۶ جلد چهارم فی الحقیقت اس نے خود کشی کا ارادہ کر لیا تھا۔لہذا اُس نے مسٹر لیمار چنڈ کے سامنے پورا پورا بیان کر دیا۔لیمار چنڈ نے بیان کیا کہ اس کے خیال میں جس طرز سے یہ دوسرا بیان ہوا ہے اس سے یہ صیح معلوم ہوتا ہے۔اُس نے نوجوان کو نہ تو دھمکایا اور نہ اُسے کوئی معافی کا وعدہ دیا۔نوجوان کی صورت حال اور وضع قطع سے ظاہر ہوتا تھا وہ فی الحقیقت مصیبت اور تکلیف میں تھا۔“ اس مقدمہ میں حضرت اقدس کے اخلاقی اعجاز غیروں کی زبان سے حضرت اقدس کے اخلاقی اعجاز جو اس مقدمہ میں ظاہر ہوئے ان کی تفصیل طویل ہے ان میں سے ایک کا ذکر آپ نے مکرم راجہ غلام حیدر خاں کی زبان سے سنا۔باوجود یکہ مولوی فضل الدین صاحب مولوی محمد حسین صاحب سے بعض ایسے سوالات کرنے پر اپنے فرائض منصبی کی وجہ سے مصر تھے مگر حضرت اقدس نے ان کو اجازت نہ دی مولوی محمد حسین صاحب نے اپنے اس بیان میں بھی جو اس مقدمہ میں کلارک کی تائید میں دیا۔حضرت اقدس کی نسبت کہا کہ نعوذ باللہ وہ فتنہ انگیز آدمی ہے۔حضرت کو قانونی حق حاصل تھا کہ اس کی حیثیت کا صحیح نقشہ پیش کر دیتے مگر آپ نے اجازت نہ دی دوسرا عظیم الشان اخلاقی واقعہ جو آپ کے صادق ہونے کا مؤید ہے۔اس مقدمہ میں بھی ظاہر ہوا کہ آپ کو سچ سے کس قدر محبت تھی اس کا بیان مکرم مولوی فضل الدین مرحوم وکیل کے الفاظ میں سنو جو میرے ایک مخلص ہم عصر لالہ دینا ناتھ ایڈیٹر ہندوستان نے مجھ سے بیان کیا اور جسے میں نے الحکم ۱۴ نومبر ۱۹۳۴ء میں شائع کر دیا تھا اور وہ حسب ذیل ہے۔آپ کو معلوم ہے کہ میرے دل میں مرزا صاحب ( حضرت اقدس علیہ الصلوة والسلام) کی کس قدر عظمت ہے؟ میں ان کا مقام اور مرتبہ بہت عظیم الشان سمجھتا ہوں۔اگر چہ ان کی دعاوی کے متعلق علم النفس کی رو سے میں یہ جانتا ہوں کہ ان کو