حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 47
حیات احمد ۴۷ جلد چهارم متعینہ بٹالہ اور ہیڈ کانسٹیبل اور پولیس کی ایک جماعت تھی۔اور حضرت اقدس کو اس کے متعلق قطعاً کوئی خبر نہ تھی یکا یک یہ قافلہ قادیان پہنچا اور اس نے الدار کا محاصرہ کرلیا۔حضرت میر ناصر نواب صاحب رضی اللہ عنہ گھبرائے ہوئے حضرت کے پاس پہنچے اور سخت پریشانی کی حالت میں کہا کہ پولیس گرفتاری کے لئے آئی ہے۔حضرت نے نہایت جمعیت خاطر اور سکون کے ساتھ فرمایا بقیہ حاشیہ۔سے اپنے خدا اور پر میشر پر توکل کر کے دونوں مذہبوں کے پر کھنے کے لئے آسمانی فیصلہ کی درخواست کی تھی اور اس پر راضی ہو گئے تھے۔اور یہ ایک ایسا امر تھا کہ اگر اسی حیثیت سے چیف کورٹ کی عدالت میں پیش کیا جاتا تو ضرور چیف کورٹ کے جوں کو اس کے واقعات پر غور کرنے سے گواہی دینی پڑتی کہ خدا نے اس مقدمہ میں اسلام کی آریوں پر ڈگری کی۔☆ مگر افسوس کہ ہمارے مولوی در پردہ اس بچے اور پاک خدا کے دشمن ہیں۔جو سچائی کی حمایت کرتا ہے۔میں نے سنا ہے کہ بعض مولوی صاحبان جیسے مولوی محمد حسین بٹالوی اس کھلی کھلی پیش گوئی کی نسبت بھی جو دونوں مذہبوں کے پر کھنے کے لئے معیار کی طرح ٹھہرائی گئی تھی جانکاہی سے کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح لوگ اس پر اعتقاد نہ لاویں۔ہم انشاء اللہ عنقریب اس معاہدہ کو جو ہم میں اور لیکھرام میں ہوا تھا سراج منیر کے اخیر میں نقل کردیں گے۔اور ہم نہایت ہمدردی سے مسلمانوں کو صلاح دیتے ہیں کہ اسلام کی اگر محبت ہے تو ان مولویوں سے پر ہیز کریں۔آئندہ اگر اور بھی تجربہ کرنا ہے تو ان کا اختیار ہے۔یہ مولوی بالکل ان فقیہوں اور فریسیوں کے حاشیہ در حاشیہ۔مولوی محمد حسین صاحب اگر بچے دل سے یقین رکھتے ہیں کہ یہ پیشگوئی لیکھرام والی جھوٹی نکلی تو انہیں مخالفانہ تحریر کے لئے تکلیف اٹھانے کی کچھ ضرورت نہیں۔ہم خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ اگر وہ جلسہ عام میں میرے روبرو یہ قسم کھالیں کہ یہ پیشگوئی خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں تھی۔اور نہ سچی نکلی اور اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے تھی اور فی الواقع پوری ہوگئی ہے۔تو اے قادر مطلق ایک سال کے اندر میرے پر کوئی عذاب شدید نازل کر۔“ پھر اگر مولوی صاحب موصوف اس عذاب شدید سے ایک سال تک بچ گئے تو ہم اپنے تئیں جھوٹا سمجھ لیں گے۔اور مولوی صاحب کے ہاتھ پر تو بہ کریں گے اور جس قدر کتا ہیں ہمارے پاس اس بارے میں ہوں گی جلا دیں گے۔اور اگر وہ اب بھی گریز کریں تو اہل اسلام خود سمجھ لیں کہ اُن کی کیا حالت ہے اور کہاں تک ان کی نوبت پہنچ گئی ہے؟ منه