حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 46 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 46

حیات احمد ۴۶ جلد چهارم پایا نہ جاتا تھا اور سرکاری حلقے خواہ اپنی پالیسی کے لحاظ سے اقرار نہ کریں مگر ان کا عمل ظاہر کرتا ہے کہ وہ اسے ایک آسمانی نشان یقین کرتے تھے۔ورنہ کوئی وجہ نہ تھی کہ ۶ / مارچ ۱۸۹۷ء کے وقوع کے متعلق ۷ یا ۸ کو تلاشی نہ ہو جاتی در آنحالیکہ اس عرصہ میں حمایت اسلام کے دفتر کی اور بعض معزز مسلمانوں کی تلاشی ہو گئی تھی۔ار ا پریل ۱۸۹۷ء کی صبح کو حضرت صوفی غلام محمد صاحب (جوان ایام میں قریب به بلوغ طالب علم تھے اور منشی رستم علی صاحب کورٹ انسپکٹر متعینہ گورداسپور کے پاس رہتے تھے ) یہ خبر لے کر قادیان آئے وہ ابھی قادیان نہ پہنچے تھے کہ پولیس کے قافلہ نے ان کو روک دیا۔اس قافلہ میں مسٹر لیمار چنڈالیں۔پی گورداسپور اور میاں محمد بخش صاحب سب انسپکٹر بقیہ حاشیہ۔موت سے ان کو بڑا ہی صدمہ پہنچا ہے۔یہ ایسا صدمہ نہیں ہے جو کبھی معزز قوم آریہ اس کو فراموش کر سکے۔اور درحقیقت یہ بھی سچ ہے کہ اگر اس موت کے ساتھ ایک اسلامی پیشگوئی نہ ہوتی تب تو یہ موت ایک خفیف سی موت سمجھی جاتی اور قاتل کی سراغ رسانی کے لئے معمولی قواعد استعمال میں لائے جاتے۔مگر اب تو یہ ایک بڑی بھاری مصیبت پیش آئی کہ لیکھرام کی وفات اس پیش گوئی کے موافق ہوئی جس میں یہ شرط جانبین نے قبول کی تھی کہ پیش گوئی کے جھوٹی نکلنے کی حالت میں اسلام کی سچائی میں فرق آئے گا۔اور اگر پیش گوئی واقعی طور پر ثابت ہوئی تو آریہ مذہب کا جھوٹا ہونا مان لیا جائے۔ہمیں آریہ صاحبوں سے بڑی ہمدردی ہے۔لیکن اس جگہ تو ہم حیران ہیں کہ اگر ہمدردی کریں تو کیا کریں۔یہ خدا کا فعل ہے۔اس میں نہ ہماری اور نہ آریہ صاحبوں کی کچھ پیش جاسکتی ہے۔خدا کی قدرت ہے کہ تلاشی کے وقت میں پہلے وہی کاغذات برآمد ہوئے جن میں میری اور لیکھرام کی دستخطی تحریر میں تھیں۔چنانچہ وہ عہد نامہ صاحب ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس کی خدمت میں پڑھا گیا۔اور مجلس عام میں اس کا ایسا اثر ہوا کہ بعض عہدہ داران پولیس جو صاحب بہادر کے ہمراہ آئے تھے وہ بول اٹھے کہ جب اپنے مطالبہ سے لیکھرام نے یہ پیش گوئی حاصل کی تھی اور عہد نامہ لکھا گیا تھا تو پھر پیشگوئی کرنے والے پر شبہ کرنا بے محل ہے۔خدا کے ہر ایک کام میں ایک حکمت ہوتی ہے۔اس تلاشی میں ایک یہ بھی حکمت تھی کہ وہ کاغذات حکام کے سامنے پیش ہو گئے جن سے یہ ثابت ہوتا تھا کہ لیکھرام نے خود قادیان میں آکر اور چھپیں دن رہ کر پیش گوئی کا مطالبہ کیا۔اور فریقین کی طرف سے تحریریں لکھی گئیں جن میں پیشگوئی کو فریقین کے مذہب کے صدق اور کذب کا معیار ٹھہرایا گیا۔اور حکام پر کھل گیا کہ یہ تحریریں بہت سے بیہودہ خیالات کا فیصلہ کرتی ہیں اور صاف سمجھا دیتی ہیں کہ یہ پیشگوئی اسلام اور آریہ مذہب کی ایک کشتی تھی اور فریقین نے کچی نیست