حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 558
حیات احمد ۵۵۸ جلد چهارم صاحب قادیان جانے والوں کو روکنے کے لئے آکر بیٹھا کرتے تھے۔لیکن جب ہم لوگ اس مقام استقبال کی طرف جارہے تھے تو انار کلی کے اس کمپونڈ کے قریب راجہ غلام حیدر خاں صاحب اور مکرم مولوی فضل الدین صاحب مرحوم پلیڈ ر لا ہور ( جو اس مقدمہ میں حضرت کی طرف سے وکیل مقرر کئے گئے تھے ) سے جماعت کے بعض بزرگوں نے ملاقات کی۔اس کے قریب سامنے ایک کوٹھی میں مارٹن کلارک ٹھہرا ہوا تھا۔اور اس وقت اس کے پاس پنڈت رام بھیجدت صاحب حاشیہ۔مکرم ڈاکٹر بشارت احمد صاحب مغفور نے مکرم راجہ غلام حیدر خاں صاحب مرحوم کا ایک تحریری بیان نقل کیا ہے۔وہ صحیح واقعات پر مشتمل ہے۔اس لئے میں اسے یہاں درج کرتا ہوں۔یہاں راجہ غلام حیدر صاحب ریٹائر تحصیلیدار مرحوم ساکن راولپنڈی کا بیان قابل ذکر ہے جو انہوں نے اپنے مرض الموت میں خود لکھوا کر مجھے بھجوایا۔( وہ احمدی نہ تھے اس لئے ان کا بیان قابل توجہ ہے ) وہ فرماتے ہیں۔میں ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک والے زمانہ میں ڈپٹی کمشنر صاحب گورداسپور کا ریڈر (مسلخواں ) تھا میں پانچ یا چھ روز کی رخصت پر اپنے گھر راولپنڈی گیا ہوا تھا۔رخصت سے واپسی پر جب میں امرتسر پہنچا اور سیکنڈ کلاس کے ڈبہ میں یہ امید روانگی بیٹھا ہوا تھا۔تو دو یوروپین صاحبان جن میں سے ایک تو ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک خود تھا اور دوسرا کلارک جو وکیل تھا اسی ڈبہ میں تشریف لائے۔اتنے میں مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب بھی آگئے اور وہ اسی سیٹ پر جہاں میں بیٹھا تھا بیٹھ گئے۔ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک میرے زمانہ ء ایام ملازمت ضلع سیالکوٹ کے واقف تھے اور مولوی محمد حسین صاحب سے بھی اچھی واقفیت تھی۔اس واسطے ایک دوسرے سے باتیں چینیں شروع ہو گئیں۔تب مجھے معلوم ہوا کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بھی ڈاکٹر صاحب موصوف کے ہم سفر ہیں بلکہ ان کا ٹکٹ بھی ڈاکٹر صاحب نے خریدا ہے۔پھر ڈاکٹر صاحب موصوف نے بوجہ دیرینہ ملاقات کے مجھ سے دریافت فرمایا کہ آپ تو ضلع سیالکوٹ میں سر رشتہ دار تھے، اب کہاں ہیں۔میں نے اُن کو جواب دیا کہ میں ضلع گورداسپور کے ڈپٹی کمشنر صاحب کا ریڈر ہوں۔تب انہوں نے فرمایا کہ اوہو۔تب تو شیطان کا سر کچلنے کے لئے آپ بہت کارآمد ہوں گے۔چونکہ میں تینوں صاحبان سے واقف تھا۔اس لئے فوراً سمجھ گیا کہ ڈاکٹر صاحب کا اشارہ کس طرف ہے۔میں نے سرسری طور پر جواب دیا کہ واقعی ہر ایک نیک انسان کا کام ہے کہ وہ شیطان کا سر کچلے۔مگر مجھے معلوم نہیں ہوا کہ آپ کا یہ کہنے سے مطلب کیا ہے۔تب ڈاکٹر صاحب موصوف نے مرزا صاحب کا نام لے کر کہا کہ وہ بڑا بھاری شیطان ہے جس کا سر کچلنے کے لئے ہم اور یہ مولوی صاحب درپے ہیں۔آپ اقرار کریں کہ آپ ہمیں مدد دیں گے۔چونکہ اس گفتگو کو میں طول دینا پسند نہیں کرتا