حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 549 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 549

حیات احمد ۵۴۹ جلد چهارم صاحب نے ایک روپیہ ماہواری اور اللہ داد صاحب کلرک شاہ پور نے ٫۸آنے ماہواری چندہ دینا قبول کیا ہے۔المشتهـ میرزا غلام احمد از قادیان ۱۵؍ستمبر ۱۸۹۷ء تبلیغ رسالت جلد ۶ صفحه ۱۵۳ تا ۱۵۵ - مجموعه اشتہارات جلد ۲ صفحه ۱۵۹ ۱۶۰ طبع بار دوم ) اس اشتہار کے پڑھنے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ محرکات اجرائے اسکول کیا تھے جن بزرگوں کا اسکول کے چندہ میں سَابِقُونَ الْأَوَّلُونَ کا ذکر ہے ان میں حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب مشہور و معروف ہیں۔مکرم مرزا خدا بخش صاحب مغفور بھی ابتداء ایک ممتاز احمدی تھے مگر خلافت ثانیہ میں انہوں نے نقص کیا اور لاہور چلے گئے۔مکرم میاں محمد اکبر رضی اللہ عنہ سلسلہ کے سَابِقُوْنَ الْأَوَّلُوْنَ میں بہت قدیم تھے۔براہین احمدیہ کے آغاز سے حضرت اقدس سے عقیدت رکھتے تھے وہ بٹالہ میں لکڑی کی تجارت کرتے تھے ان ابتدائی ایام میں ان کو یہ شرف حاصل تھا کہ جب حضرت اقدس بٹالہ جاتے تو عموماً ذیل گھر میں جس کے ساتھ ہی ان کا ٹال تھا قیام فرماتے براہین کی اشاعت کے وقت ۲ آنے چندہ دیا تھا اور یہ ایسا ہی تھا جیسے ایک وقت کے ایک مٹھی جو اور پہاڑ کے برابر سونا دینے سے افضل تھے اور حضرت اقدس نے اسے نہ صرف قبول فرمایا بلکہ براہین میں اس کی اشاعت کی۔غرض نہایت مخلص اور ہنس مکھ مہمان نواز اور ملنسار تھے۔اس تحریر کے وقت میرے تصور کی آنکھ کے سامنے کھڑے ہیں۔مجھ سے ان کو لِلہ محبت تھی۔مکرم حضرت چود ہری الہ داد صاحب کلرک بھیرہ ضلع شاہ پور کے باشندے تھے نہایت مخلص اور متقی۔آخر حضرت اقدس کی اجازت پر ملازمت سے مستعفی ہو کر قادیان آگئے اور ر یو یو آف ریلیجنز کے ہیڈ کلرک مقرر ہوئے۔ان کی دیانت امانت کا یہ بلند مقام تھا کہ لوگ انہیں امین الملتہ کہا کرتے تھے۔ریویو کے کام تو نہایت اخلاص محنت اور دلسوزی سے کرتے تھے مکتوبات احمدیہ میں میں نے تعارفی نوٹ لکھا