حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 548 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 548

حیات احمد ۵۴۸ جلد چهارم اور اس کے برابر ہیں۔سو جس کو علم اور معرفت عطا کی گئی ہے اس کا فرض ہے جو ان تمام اہلِ مذاہب کو قابل رحم تصور کر کے سچائی کے دلائل اُن کے سامنے رکھے اور ضلالت کے گڑھے سے اُن کو نکالے اور خدا سے بھی دعا کرے کہ یہ لوگ ان مہلک بیماریوں سے شفا پاویں اس لئے میں مناسب دیکھتا ہوں کہ بچوں کی تعلیم کے ذریعہ سے اسلامی روشنی کو ملک میں پھیلاؤں اور جس طریق سے میں اس خدمت کو انجام دوں گا میرے نزدیک دوسرے سے یہ کام ہرگز نہیں ہو سکے گا۔ہر ایک مسلمان کا فرض ہے کہ اس طوفانِ ضلالت میں اسلامی ذریت کو غیر مذاہب کے وساوس سے بچانے کے لئے اس ارادہ میں میری مدد کرے سو میں مناسب دیکھتا ہوں کہ بالفعل قادیان میں ایک مڈل اسکول قائم کیا جائے اور علاوہ تعلیم انگریزی کے ایک حصہ تعلیم کا وہ کتابیں رکھی جائیں جو میری طرف سے اس غرض سے تالیف ہوں گی کہ مخالفوں کے تمام اعتراضات کا جواب دے کر بچوں کو اسلام کی خوبیاں سکھلائی جائیں اور مخالفوں کے عقیدوں کا بے اصل اور باطل ہونا سمجھایا جائے اس طریق سے اسلامی ذریت نہ صرف مخالفوں کے حملوں سے محفوظ رہے گی بلکہ بہت جلد وہ وقت آئے گا کہ حق کے طالب سچ کی روشنی اسلام میں پاکر باپوں اور بیٹوں اور بھائیوں کو اسلام کے لئے چھوڑ دیں گے۔مناسب ہے کہ ہر ایک صاحب توفیق اپنے دائگی چندہ سے اطلاع دیوے کہ وہ اس کارِ خیر کی امداد میں کیا کچھ ماہواری مدد کر سکتا ہے۔اگر یہ سرمایہ زیادہ ہو جائے تو کیا تعجب ہے کہ یہ اسکول انٹرنس تک ہو جائے۔واضح رہے کہ اوّل بنیاد چندہ کی اخویم مخدومی مولوی حکیم مولوی نورالدین صاحب نے ڈالی ہے کیونکہ انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ میں اس اسکول کے لئے دس روپیہ ( ع ) ماہواری دوں گا۔اور میرزا خدا بخش صاحب اتالیق نواب محمد علیخان صاحب نے دو روپیہ اور محمد اکبر صاحب نے ایک روپیہ ماہواری اور میر ناصر نواب