حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 542
حیات احمد ۵۴۲ جلد چهارم نہر کوثر بن کر جاری کیا مگر یہ واقعہ ہی غلط ہے ڈاکٹر صاحب ۱۲ء سے ۷شہ ء تک میرا قیام امرت سر میں بتا کر ان واقعات کو حذف کر دینا چاہتے ہیں جن میں سے بعض کا ذکر دوسرے واقعات کے سلسلہ میں آچکا ہے۔اس وقت میں معمولی اخبار کا ایڈیٹر تھا یا نہیں ڈاکٹر صاحب اور ان کے خسر مکرم با بوصفدر جنگ زندہ ہوتے تو اُن سے سنوا دیتا۔میرے خدا داد زور قلم کی امرت سر میں یہاں تک دھاک تھی کہ بابوصفدر جنگ کو تو ال امرت سر نے میرے ایک مضمون کی بناء پر (جوادارہ وکیل کی طرف سے شائع ہوا تھا اور سرڈینس فٹرک اس وقت کے لفٹنٹ گورنر پنجاب نے اس کا ترجمہ کرا کر خاص طور پر توجہ کی تھی ) حافظ عبدالرحمن صاحب سیاح مصر کے ذریعہ مجھ سے ملاقات کی خواہش کی اور جب میں نے انکار کر دیا تو خود میرے مکان پر چلے آئے اور داد دی۔وکیل وہ اخبار تھا جس میں عبداللہ عمادی۔مولانا ابوالکلام آزاد۔مرزا حیرت۔بالآخر مولوی انشاء اللہ صاحب جیسے لوگوں نے کام کیا۔میں یہاں اپنی امرت سری صحافی زندگی کے اس ذکر پر مجبور ہو گیا اور مجھے افسوس ہے کہ مرحوم با بوصفدر جنگ صاحب کو اپنی زندگی کے اُن تلخ ایام میں مجھ سے شکایت پیدا ہوگئی۔کہ ان میں میری صحافی زندگی اور قوت قلم کی شکایت کرتے تھے۔بہرحال جب میں نے دیکھا کہ اخبارات ہمارے مضامین شائع نہیں کرتے تو میں نے الحکم کے اجراء کا عزم کر لیا اور ایسی حالت میں کہ میں خالی ہاتھ محض تھا۔حضرت اقدس سے استصواب ارادہ کر لینے کے بعد میں نے حضرت کی خدمت میں ایک عریضہ اجرائے الحکم کے متعلق لکھا آپ نے خود جواب تحریر فرمایا۔افسوس ہے وہ ۱۹۴۷ء کے انقلاب میں ضائع ہو گیا۔اس کا خلاصہ یہ تھا کہ ”ہم کو اس بارہ میں تجربہ نہیں ، اخبار کی ضرورت تو ہے مگر ہماری جماعت غرباء