حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 541
حیات احمد ۵۴۱ جلد چهارم میری زندگی کا ایک نیا دور جس طرح پر ۱۸۹۳ء میری زندگی کے ایک دور کا آغاز تھا ۱۸۹۷ء کے ساتھ ختم ہوکر میری زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوا۔نہر کی ملازمت چھوڑ دینے کے بعد میری زندگی ایک آزاد صحافی کی زندگی تھی اور سلسلہ کے ایک وفادار سپاہی کی طرح اپنی حیثیت کے موافق کام کر رہا تھا۔مگر دراصل یہ میری صحافی تربیت کا دور تھا۔اور اب وقت آ گیا تھا کہ سلسلہ کا پہلا اخبار میرے نام سے جاری ہو۔الحكم کا اجرا جب ڈاکٹر کلارک نے حضرت اقدس کے خلاف اقدام قتل کی صورت میں ایک مقدمہ کا آغاز کیا تو اس مقدمہ کی روزانہ روئداد شائع کرتا تھا۔دوسرے اخبارات نے انکار کر دیا۔تب مجھے محسوس ہوا کہ جب تک اپنا آزاد اخبار ہاتھ میں نہ ہو یہ کام نہیں ہوسکتا۔اور میں نے عزم صمیم اخبار کے اجرا کا کرلیا۔مکرم ڈاکٹر بشارت احمد صاحب مغفور نے الحکم کے اجرا پر لکھا ہے کہ چونکہ شیخ یعقوب علی صاحب خراب جنہوں نے بیعت تو ۱۸۹۳ء میں کر لی تھی مگر اب تک امرت سر میں کسی معمولی اخبار کے ایڈیٹر تھے اب باقاعدہ طور پر قادیان آچکے تھے۔اس لئے انہوں نے قادیان سے اس سال ایک اخبار جاری کیا جس کا نام الحکم رکھا۔“ اللہ علیم ہے کہ میں کسی خودستائی اور خود نمائی کے لئے نہیں بلکہ تاریخ سلسلہ کی صحت کے لئے لکھتا ہوں۔اور ڈاکٹر صاحب کی نیت پر اُن کی موت کے بعد حملہ کرنا گناہ سمجھتا ہوں۔اُن کی تحریر موجود ہے اور ہر شخص اس کا مفہوم سمجھ سکتا ہے مجھے اس سے عار نہیں ہوسکتا کہ میں کسی معمولی اخبار کا ایڈیٹر ہوتا۔صحافت کا مقام بجائے خود بلند مقام ہے۔علاوہ ازیں کیا یہ اسی معمولی اخبار کا ایڈیٹر نہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے الحکم ایسے اخبار کے مؤسس اور ایڈیٹری کا شرف بخشا جو اس چشمہء حیات سے ہزاروں انسانوں کی سیر آبی کا ذریعہ بنا جو حضرت مسیح موعود علیہ ا السلام نے