حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 540 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 540

حیات احمد مزید توضیح ۵۴۰ جلد چهارم یہ سوال ایک عیسائی کی طرف سے کیا گیا تھا میں اگر غلطی نہیں کرتا تو ان کا نام علی بخش تھا۔وہ اس وقت بھان سنگھ باغ میں رہتے تھے اور بعد میں پادری علی بخش کے نام سے مشہور ہوئے۔وہ اسلامیات پر بحث کرنے کا جذبہ رکھتے تھے۔راقم الحروف سے قیام لاہور کے زمانہ میں ہمیشہ گفتگو رہتی۔میں اس موقع پر لاہور گیا ہوا تھا۔سوال اس بنیاد پر تھا (جو عام طور پر عیسائیوں نے قرآن مجید پر اعتراضات کے سلسلہ میں اپنی کتابوں میں کیا ہے کہ قرآن کریم نعوذ باللہ الہامی نہیں) کہ قرآن مجید الہامی کتاب نہیں چنانچہ جو قصص ہیں وہ بائبل سے لئے گئے ہیں۔اس پر حضرت اقدس نے ایک مبسوط تقریر فرمائی تھی۔اس میں کی بعض باتیں مجھے اب تک بھی یاد ہیں آپ نے فرمایا تھا کہ بائبل سے قرآن کریم نے قصص کو نقل کیا ہوتا تو بائبل کے بیان کردہ واقعات کی تردید نہ کی ہوتی۔بعض انبیاء علیہم السلام پر جو الزام بائبل نے لگائے ہیں ان کو غلط ٹھہرایا اور نبیوں کی تقدیس کی۔علاوہ ازیں بعض واقعات ایسے ہیں جو بائبل میں نہیں ہیں اور قرآن مجید بیان کرتا ہے اس سلسلہ میں حضرت یوسف علیہ السلام کا حوالہ دیا گیا تھا۔اور ایک نہایت ہی لطیف بات ہے جس نے مجھے پر اثر کیا تھا اور اس کی لذت اس تحریر کے وقت بھی محسوس کرتا ہوں اللہ تعالیٰ جو عالم الغیب ہے جانتا تھا کہ ایک زمانہ آئے گا کہ بعض یہ اعتراض کریں گے کہ قرآن مجید کے قصص بائبل سے لئے گئے ہیں اس لئے بعض مقامات پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا جیسا کہ حضرت مریم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔ذلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم آپ پر وحی کرتے ہیں قرآن مجید نے تو ایسے معترضین کا جواب پہلے سے دے رکھا ہے۔اور بھی ایسی آیات قصص کے بیان میں ہیں۔ال عمران: ۴۵