حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 537
حیات احمد ۵۳۷ جلد چهارم ۱۸۹۷ء کو مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ اس مقدمہ کا سپاہی سمن لے کر آیا ہے۔یہ خواب مسجد میں عام جماعت کو سنادی گئی تھی۔آخر ایسا ہی ظہور میں آیا اور سپاہی سمن لے کر آ گیا اور معلوم ہوا کہ ایڈیٹر اخبار ناظم الہند لا ہور نے مجھے گواہ لکھا دیا ہے۔جس پر مولوی رحیم بخش پرائیویٹ سکرٹری نواب بہاولپور نے لائیل کا مقدمہ ملتان میں کیا تھا۔سو جب میں ملتان میں پہنچ کر عدالت میں گواہی کے لئے گیا تو ویسا ہی ظہور میں آیا۔حاکم کو ایسا سہو ہو گیا کہ قسم دینا بھول گیا اور اظہار شروع کر دیئے۔“ ( نزول المسح ، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۵۹۹) اس سفر میں آپ کے ہمراہ حضرت حکیم الامت مولانا نورالدین صاحب حضرت مولانا عبد الکریم صاحب مکرم خواجہ کمال الدین صاحب اور مکرم محمد علی صاحب مغفور مرحوم بھی ساتھ تھے مکرم مولوی محمد علی صاحب نے اسی سال مارچ کے اواخر میں قادیان آکر بیعت کی تھی۔اور قادیان میں ان کی یہی پہلی آمد اور حضرت سے ملاقات تھی۔سفر ملتان میں جیسا کہ اوپر ذکر ہوا اُسی طرح پر واقعہ شہادت پیش آیا جیسا که قبل از وقت اللہ تعالیٰ نے بتا دیا تھا اور جماعت مقیم قادیان کو پہلے سے بتا دیا گیا تھا اس وقت نہ ناظم الہند کیس کا علم تھا نہ اس میں شہادت دینے کا سوال بلکہ یہ وہم بھی نہیں ہوسکتا تھا کہ ناظم صاحب جیسا تلخ دشمن آپ کو شہادت میں پیش کر سکتا ہے۔مگر یہ واقعہ آپ کی صداقت کی دلیل ہونے والا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دئیے۔اس وقت ملتان ( جو اولیائے کرام کا ایک مرکز رہا ہے اور اسلامی فتوحات کا دروازہ تھا ) میں حضرت اقدس کی جماعت کے چند افراد تھے جو اپنی معاشی حالت کے لحاظ سے غریب کہے جاسکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ اس کے برگزیدہ کی جماعت میں غربا ہی بنیادی اینٹ ہوتے ہیں اگر چہ اس وقت تک سلسلہ کی مخالفت عام ہو چکی تھی مگر پنڈت لیکھرام کی پیشگوئی پوری ہونے کے بعد مسلمانوں میں ہمدردانہ رو بھی چل رہی تھی اور اسی اثناء میں ڈاکٹر کلارک کے اقدام