حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 536
حیات احمد ۵۳۶ جلد چهارم سفر ملتان شہادت بمقد مہ ناظم الہند اس سال کے واقعات میں آپ کا سفر ملتان بھی ہے جو اوائل اکتوبر ۱۸۹۷ء میں پیش آیا۔اس سفر کی تقریب یہ ہوئی کہ مولوی رحیم بخش صاحب مرحوم بہاولپور نے لاہور کے اخبار ناظم الہند پر ازالہ حیثیت عرفی کا دعویٰ دائر کیا تھا نواب صاحب بہاولپور کے حرم سرائے میں ایک یورپین عورت میں سکسیر کے نام سے تھی جو نواب صاحب کے نکاح میں آئی۔کچھ سیاسی اسباب ایسے پیدا ہوئے یا ان کے پیدا ہونے کا احتمال تھا کہ اسے طلاق ہو گئی۔اس یورپین عورت کی طلاق کے سلسلہ میں ناظم الہند کے شیعہ ایڈیٹر سید ناظم حسین نے مضامین کا ایک سلسلہ مولوی رحیم بخش کے خلاف لکھا اور اس مقدمہ کی نوبت آئی۔ناظم الہند کا وہ فائل دفتر الحکم کی لائبریری میں تھا۔ناظم الہند کا ایڈیٹر سلسلہ کا سخت دشمن تھا۔اور اُس نے حسین کامی کی قادیان میں آمد کے سلسلہ میں بہت کچھ لکھا مگر وہ یقین رکھتا تھا کہ حضرت اقدس کی شہادت باوجود اُس کی اپنی دشمنی کے صداقت کا اظہار ہوگی اس لئے اس نے شہادت صفائی میں آپ کو بطور گواہ طلب کیا۔حضرت اقدس جائز طور پر بذریعہ کمیشن شہادت دینے کا مطالبہ کر سکتے تھے۔مگر آپ نے قرآن کریم کی ہدایت پر عمل کر کے شہادت کے لئے خود جانا ضروری سمجھا۔اور ملتان تشریف لے گئے۔عجیب بات یہ ہے کہ ابھی اس شہادت کے متعلق آپ کو کوئی علم نہ تھا۔خود ناظم حسین نے بھی اس کی ضرورت نہیں سمجھی تھی کہ وہ قبل از قبل آکر آپ سے ذکر کرتا وہ ایک صحیح شعور رکھتا تھا کہ آپ شہادت کے طلب کرنے پر ضرور آئیں گے اور کچی شہادت دیں گے مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سفر کے متعلق بعض امور کا علم دے دیا چنانچہ آپ خود فرماتے ہیں۔شروع ۱۸۹۷ء میں مجھے دکھایا گیا کہ میں ایک گواہی کے لئے ایک انگریز حاکم کے پاس حاضر کیا گیا ہوں اور اس حاکم نے مجھ سے سوال کیا کہ آپ کے والد کا کیا نام ہے؟ لیکن جیسا کہ شہادت کے لئے دستور ہے مجھے قسم نہیں دی۔پھر ۱/۸ کتوبر