حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 533
حیات احمد ۵۳۳ جلد چهارم اور ہمارے باغ میں لگاتا جاتا ہے۔کیا منقول کی رو سے اور کیا معقول کی رو سے اور کیا آسمانی شہادتوں کی رو سے دن بدن خدا تعالیٰ ہماری تائید میں ہے اب بھی اگر مخالف مولوی یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم حق پر ہیں اور یہ لوگ باطل پر اور خدا ہمارے ساتھ ہے اور ان لوگوں پر لعنت اور غضب الہی ہے تو باوجود اس کے کہ ہماری حجت اُن پر پوری ہو چکی ہے پھر دوبارہ ہم ان کو حق اور باطل کے پرکھنے کے لئے موقع دیتے ہیں۔اگر وہ فی الواقع اپنے تئیں حق پر سمجھتے ہیں اور ہمیں باطل پر۔اور چاہتے ہیں کہ حق کھل جائے اور باطل معدوم ہو جائے تو اس طریق کو اختیار کر لیں اور وہ یہ ہے کہ وہ اپنی جگہ پر اور میں اپنی جگہ پر خدا تعالیٰ کی جناب میں دعا کریں۔اُن کی طرف سے یہ دعا ہو کہ یا الہی اگر یہ شخص جو مسیح موعود ہونے کا دعوی کرتا ہے تیرے نزدیک جھوٹا اور کاذب اور مفتری ہے اور ہم اپنی رائے میں سچے اور حق پر اور تیرے مقبول بندے ہیں تو ایک سال تک کوئی فوق العادت امرغیب بطور نشان ہم پر ظاہر فرما اور ایک سال کے اندر ہی اس کو پورا کر دے۔اور میں اس کے مقابل پر یہ دعا کروں گا کہ یا الہی اگر تو جانتا ہے کہ میں تیری طرف سے ہوں اور در حقیقت مسیح موعود ہوں تو ایک اور نشان پیشگوئی کے ذریعہ میرے لئے ظاہر فرما۔اور اس کو ایک سال کے اندر پورا کر پھر اگر ایک سال کے اندر ان کی تائید میں کوئی نشان ظاہر ہوا اور میری تائید میں کچھ ظاہر نہ ہوا تو میں جھوٹا ٹھہروں گا۔اور اگر میری تائید میں کچھ ظاہر ہوا مگر اس کے مقابل پر ان کی تائید میں ویسا ہی کوئی نشان ظاہر ہو گیا تب بھی میں جھوٹا ٹھہروں گا۔لیکن اگر میری تائید میں ایک سال کے عرصہ تک کھلا کھلا نشان ظاہر ہو گیا اور اُن کی تائید میں نہ ہوا تو اس صورت میں میں سچا ٹھہروں گا۔اور شرط یہ ہوگی کہ اگر تصریحات متذکرہ بالا کی رو سے فریق مخالف سچا نکلا تو میں ان کے ہاتھ پر تو بہ کروں گا۔اور جہاں تک ممکن ہوگا میں اپنی کتابیں جلا دوں گا جس میں ایسے دعوی یا الہامات ہیں