حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 531 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 531

حیات احمد ۵۳۱ جلد چهارم اپنے دوستوں کی نسبت اور بعض اپنے فلاسفر قومی بھائیوں کی نسبت کہ گویا نجم الہند ہیں اور ایک دیسی امیر نو وارد پنجابی الاصل کی نسبت بعض متوحش خبریں جو کسی کے ابتلا اور کسی کی موت وفوت اعزہ اور کسی کی خود اپنی موت پر دلالت کرتی ہیں۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد اصفحه ۹۴ ، ۹۵ طبع بار دوم ) اس میں قومی فلاسفر اور نجم الہند کے ابتلا کا ذکر تھا اور پھر مختلف اوقات میں دعائے مستجاب کے دکھانے کا اعلان تھا اس سال وہ ابتلا سر سید کو پیش آیا اور اس پر آپ نے ۱۲؍ مارچ ۱۸۹۷ء کو ایک طویل اشتہار جاری فرمایا جولیکھرام کی پیشگوئی کے پورا ہونے کے سلسلہ میں سرسید سے خطاب تھا فرمایا میں یقین رکھتا ہوں کہ آپ جیسا ایک منصف مزاج فی الفور اپنی پہلی رائے کو چھوڑ کر اس سچائی کو تعظیم کے ساتھ قبول کرلے۔اگر چہ یہ پیشگوئی بہت ہی صاف ہے مگر میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ دن بدن زیادہ صفائی کے ساتھ لوگوں کو سمجھ آتی جائے گی۔یہاں تک کہ کچھ دنوں کے بعد تاریک دلوں پر بھی اس کی ایک عظیم الشان روشنی پڑے گی۔اکثر حصہ اس ملک کا ایسے تاریک دلوں کے ساتھ پر ہے جن کو خبر نہیں کہ خدا بھی ہے۔اور اس سے ایسے تعلقات بھی ہو جایا کرتے ہیں !! پس جیسے جیسے مچھلی پتھر کو چاٹ کروا پس ہوگی ویسے ویسے اس پیشگوئی پر یقین بڑھتا جائے گا۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مجھے یہ بھی صاف لفظوں میں فرمایا گیا ہے کہ پھرا یکدفعہ ہندو مذہب کا اسلام کی طرف زور کے ساتھ رجوع ہوگا۔ابھی وہ بچے ہیں۔انہیں معلوم نہیں کہ ایک ہستی قادر مطلق موجود ہے !مگر وہ وقت آتا ہے کہ اُن کی آنکھیں کھلیں گی اور زندہ خدا کو اس کے عجائب کاموں کے ساتھ بجز اسلام کے اور کسی جگہ نہ پائیں گے۔آپ کو یہ بھی یاد دلاتا ہوں کہ ایک پیشگوئی میں نے اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں آپ کی نسبت کی تھی کہ آپ کو عمر کے ایک حصہ میں ایک سخت غم و ہم پیش آئے گا۔اور اس پیشگوئی کے شائع ہونے سے آپ کے بعض احباب ناراض ہوئے تھے۔اور