حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 530
حیات احمد ۵۳۰ جلد چهارم مرحوم نے پانچ گھماؤں زمین صبہ کرنی چاہی۔مگر اللہ تعالیٰ نے میرے دل کو کھول دیا اور وہ زمین میں نے مدرسہ کے نام صبہ کرا دی۔قصر خلافت اور اس کے سلسلہ میں حضرت میرزا بشیر احمد صاحب کے مکان تک اور دوسری طرف حضرت ام طاہر رضی اللہ عنہا کے مکان تک کی اراضیات کے سلسلہ کے ہاتھ میں آنے میں اسی خطا کار کو دخل ہے جس میں ایک حصہ کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نام ھبہ کرنے کی بھی سعادت اس خاکسار کو ملی جو میں نے پسران پنڈت شنکر داس سے خرید کیا تھا۔ان فضلوں میں میرے کسی عمل کو دخل نہیں یہ محض اللہ تعالیٰ ہی کی غریب نوازی تھی وہ جسے چاہے اپنے فضل و سعادت سے حصہ بخشے۔وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ حَمْدًا كَثِيرًا۔طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيْهِ - تائیدی نشانات کا سال ۱۸۹۷ء سلسلہ کی ترقیات میں مختلف رنگوں میں ایک تاریخی سال ہے لیکن نشانات الہیہ کے ظہور میں یہ سال پہلے سالوں سے سبقت لے گیا۔اور اس طرح پر سلسلہ کی روز افزوں ترقی بھی اس کی صداقت کی دلیل ہے۔اسی کتاب میں لیکھرام کا نشان۔نجفی کا خائب و خاسر ہونا۔چودہویں صدی کے بزرگ کی تو بہ کا نشان متحدیانہ اعلانات کے مقابلہ میں دشمنوں کی گریز۔تصانیف کے سلسلہ میں خارق عادت تائیدات وغیرہ کا ذکر آچکا ہے اسی سلسلہ میں سرسید احمد خاں صاحب مرحوم کو جو صدمہ علی گڑھ کے فنڈز میں بہت بڑے غبن کی وجہ سے ہوا وہ بھی ایک پیشگوئی کے موافق تھا جس کا ۲۰ فروری کے اشتہار میں آپ نے اشارہ کیا تھا فرمایا اگر کسی کی نسبت کوئی بات نا ملائم یا کوئی پیشگوئی وحشت ناک بذریعہ الہام ہم پر ظاہر ہو تو وہ عالم مجبوری ہے جس کو ہم غم سے بھری ہوئی طبیعت کے ساتھ اپنے رسالہ میں تحریر کریں گے چنانچہ ہم پر خود اپنی نسبت بعض جدی اقارب کی نسبت بعض ۲۰ فروری کے اشتہار میں یعنی ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں (ناشر)