حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 529 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 529

حیات احمد ۵۲۹ جلد چهارم ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ ہر ایک دوست اور مخلص اس بیت اللہ کی امدا د میں شریک ہو جائے گا گوکیسی ہی کم درجہ کی شراکت ہو اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو امور خیر کی امداد میں دلی زور اور توفیق بخشے۔بالآخر واضح رہے کہ پانسور و پیر صمار ) اس عمارت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔والسلام خاکسار میرزا غلام احمد قادیانی ۲۹ جولائی ۱۸۹۷ء تبلیغ رسالت جلد ۶ صفحه ۱۵۲ ۱۵۳ - مجموعه اشتہارات جلد ۲ صفحه ۱۵۸ طبع بار دوم ) باوجود اس کے پھر بھی تنگی محسوس ہونے لگی اور پھر اس میں جنوبی حصہ مسجد کی جانب کا مکان جو حضرت اقدس کے ابنائے عم کا مکان تھا۔وہ خرید کیا گیا۔اور یہ راقم الحروف کی سعادت اور خوش قسمتی ہے کہ اس توسیع کے لئے خرید مکان کا تمام معاملہ اسی کے ذریعہ طے ہوا اس لئے کہ ابنائے عم سخت مخالف تھے۔تحديث بالنعمة اور ہر طرح عملاً مخالفت کرتے۔مگر اللہ تعالیٰ اس مسجد اور جماعت کو بڑھانا چاھتا تھا اور اس کی ہی نہاں در نہاں مشیت نے مجھے ہجرت کے بعد ان کے ہی دیوان خانہ میں قیام کا موقعہ دیا اس طرح پر میری تحریک اور تفہیم پر انہوں نے اس مکان کو جوخر اس کہلاتا تھا دیدیا اور مسجد کی اور توسیع ہوئی۔پھر خلافت ثانیہ میں تو بہت وسیع ہوئی۔میں یہاں تحدیث بالنعمۃ کے طور پر ذکر کرتا ہوں کہ مسجد اقصیٰ کی توسیع میں جہاں تک زمین کا سوال ہے وہ میری ہی تحریک اور تفہیم پر نہو توں سے خرید کی گئی اور مغربی حصہ کا مکان حضرت مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم نے میری تحریک پر دیدیا۔نہ صرف یہ بلکہ تعلیم الاسلام کی اراضیات بھی میری ہی تحریک اور تفہیم پر نہایت ارزاں قیمت پر اور بذریعہ اقساط قیمت دینے پر خرید کی گئیں۔اس سودے کے سلسلہ میں مجھے مرزا افضل بیگ