حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 517
حیات احمد ۵۱۷ جلد چهارم کسر صلیب کرتا ہے اور مردہ پرستی سے تو بہ کر کے اسلام کی طرف دعوت دیتا ہے ان کی قوم کے ایک حصہ کو مظہر دجال قرار دیتا ہے اور یہ وہ امور ہیں جن کے بیان کرنے کی کسی کو جرات نہ ہوتی تھی۔غرض اس ساٹھ سالہ جو بلی کی تقریب میں آپ نے تحفہ قیصر یہ لکھا اور حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام کی عصمت اور آپ کے مقام رسالت و قرب الہی کی حفاظت کی تحریک فرمائی آپ نے تحفہ قیصریہ میں اپنے لئے کچھ طلب نہیں کیا۔بلکہ صرف حضرت مسیح علیہ السلام کی عزت کے تحفظ کے نام سے اس غلط عقیدہ کی تردید کی جو عیسائیوں میں رواج پا گیا۔چنانچہ آپ نے لکھا۔ایک اور بڑی بھاری مصیبت قابل ذکر ہے اور وہ یہ ہے کہ اس خدا کے دائی پیارے اور دائمی محبوب اور دائمی مقبول کی نسبت جس کا نام یسوع ہے یہودیوں نے اپنی شرارت اور بے ایمانی سے لعنت کے بُرے سے بُرے مفہوم کو جائز رکھا لیکن عیسائیوں نے بھی اس بہتان میں کسی قدر شراکت اختیار کی کیونکہ یہ گمان کیا گیا ہے که گویا یسوع مسیح کا دل تین دن تک لعنت کے مفہوم کا مصداق بھی رہا ہے۔اس بات کے خیال سے ہمارا بدن کانپتا ہے اور وجود کے ذرہ ذرہ پر لرزہ پڑ جاتا ہے۔کیا مسیح کا پاک دل اور خدا کی لعنت !!! گو ایک سیکنڈ کے لئے ہی ہو۔افسوس! ہزار افسوس کہ یسوع مسیح جیسے خدا کے پیارے کی نسبت یہ اعتقاد رکھیں کہ کسی وقت اس کا دل لعنت کے مفہوم کا مصداق بھی ہو گیا تھا۔اس وقت ہم یہ عاجزانہ التماس کسی مذہبی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک کامل انسان کی حفظ عزت کے لئے پیش کرتے ہیں اور یسوع کی طرف سے رسول کی طرح ہو کر جس طرح کشفی حالت میں اوسکی زبان سے سنا حضور قیصرہ ہند میں پہنچا دیتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ جناب مدوحہ اس غلطی کی اصلاح فرمائیں۔یہ اس زمانہ کی فاحش غلطی ہے کہ جبکہ لوگوں نے لعنت کے مفہوم پر غور نہیں کی تھی۔لیکن اب ادب تقاضا کرتا ہے کہ نہایت جلدی اس غلطی کی اصلاح کر دی جائے۔اور خدا کے اُس اعلیٰ درجہ