حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 511 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 511

حیات احمد معافی کا اعلان ۵۱۱ جلد چهارم حضرت اقدس نے ۳۰ / نومبر ۱۸۹۷ء کو جو اعلان شائع کیا اس میں فرمایا ”خدا تعالیٰ اس بزرگ کی خطا معاف کرے اور اس سے راضی ہو۔میں اس سے راضی ہوں اور معافی دیتا ہوں چاہیے کہ ہماری جماعت کا ہر ایک شخص اس کے حق میں دعا کرے اللهُمَّ احْفَظْهُ مِنَ الْبَلَا يَا وَالْآفَاتِ بقیہ حاشیہ۔حتی کہ میرے بہت سے مہربان دوستوں نے جو ان سے آپ کے معاملات پر میں ہمیشہ بحث کرتا رہتا تھا مجھے۔۔خطاب سے مخاطب کیا۔پھر یہ کہ با ایں ہمہ کیوں؟ میرے منہ سے وہ بیت مثنوی کا نکلا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ میں جب لاہور میں اُن کے پاس گیا تو مجھ کو اپنے معتبر دوستوں کے ذریعہ سے (جن سے پہلے میری بحث رہتی تھی ) خبر ملی کہ آپ سے ایسی باتیں ظہور میں آئی ہیں جس سے کسی مسلمان ایماندار کو آپ کے مخالف خیال کرنے میں کوئی تامل نہیں رہا۔(۱) آپ نے دعوی رسول ہونے کا کیا ہے اور ختم المرسلین ہونے کا بھی ساتھ ساتھ ادعا کر دیا ہے۔(جو ایک سچے مسلمان کے دل پر سخت چوٹ لگانے والا فقرہ تھا کہ جو عزت ختم رسالت کی بارگاہ الہی سے محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ (فَدَاكَ رُوْحِيْ يَا رَسُوْلَ اللهِ ) کومل چکی ہے اس کا دوسرا کب حقدار ہوسکتا ہے۔(۲) آپ نے فرمایا ہے کہ ترک تباہ ہوں گے۔اور ان کا سلطان بڑی بے عزتی سے قتل کیا جائے گا اور دنیا کے مسلمان مجھ سے التجا کریں گے کہ میں ان کو ایک سلطان مقرر کر دوں۔یہ ایک خوفناک بر بادی بخش پیشگوئی اسلامی دنیا کے واسطے تھی کیونکہ آج تمام مقدس مقامات پر جو خداوند کے عہد قدیم و جدید سے چلے آتے ہیں۔اُن کی خدمت لڑکوں اور اُن کے سلطان کے ہاتھ میں ہے۔ان مقامات کا ترکوں کی مغلوبی کی حالت میں نکل جانا ایک لازمی اور یقینی امر ہے جس کے خیال کرنے سے ایک ہیبت ناک و خطرناک نظارہ دکھائی دیتا ہے کہ اس موقعہ پر دنیا کے ہر ایک مسلمان پر فرض ہو جائے گا کہ ان معبدوں کو ناپاک ہاتھوں سے بچانے کے واسطے اپنی جان و مال کی قربانی چڑھائے۔کیسا مصیبت اور امتحان کا وقت مسلمانوں پر آپڑے گا کہ یا تو وہ بال بچہ گھر بار پیارے وطن کو الوداع کہہ کے اُن پاک معبدوں کی طرف چل پڑیں یا اُس ابدی اور جاوید زندگی ایمان سے دست بردار ہو جائیں۔